مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 479 of 632

مسیحی انفاس — Page 479

۴۷۹ آج کل کے یورپین فلاسفر باوجود عیسائی ہونے کے اس بات کو نہیں مانتے کہ در حقیقت یسوع کو شیطان پھسلا کر ایک پہاڑی پر لے گیا تھا۔ کیونکہ وہ لوگ شیطان کے تجسم کے قائل نہیں بلکہ خود شیطان کے وجود سے ہی منکر ہیں۔ لیکن در حقیقت علاوہ پھلانے ۳۳۲ خیالات ان فلاسفروں کے ایک خیال تو ضرور ہوتا ہے کہ اگر یہ واقعہ شیطان کی رفاقت کا یہودیوں کے پہاڑوں اور گزر گاہوں میں ہوتا تو تو ضرور تھا کہ نہ صرف یسوع بلکہ کئی کے ایمان والے یہودی بھی اس شیطان کو دیکھتے۔ اور کچھ شک نہیں کہ شیطان معمولی انسانوں کی طرح پر جرح و تنقید نہیں ہو گا۔ بلکہ ایک عجیب و غریب صورت کا جاندار ہو گا جو دیکھنے والوں کو تعجب میں ڈالتا ہو گا پس اگر در حقیقت شیطان یسوع کو بیداری میں دکھائی دیا تھا تو چاہئے تھا کہ اس کو دیکھ کر ہزار ہا یہودی اس جگہ جمع ہو جاتے اور ایک مجمع اکٹھا ہو جاتا لیکن ایسا وقوع میں نہیں آیا۔ اس لئے یورپین محقق اس کو کوئی خارجی واقع قبول نہیں کر سکتے۔ بلکہ وہ ایسے بیہودہ تخیلات کی وجہ ت کی وجہ سے جن میں سے خدائی کا دعوی بھی ہے۔ انجیل کو دور سے سلام کرتے ہیں۔ چنانچہ حال ہی میں ایک یورپین عالم نے عیسائیوں کی انجیل مقدس کی نسبت یہ رائے ظاہر کی ہے کہ میری رائے میں کسی دانشمند آدمی کو اس بات کے یقین دلانے کو کہ انجیل انسان کی بناوٹ بلکہ وحشیانہ ایجاد ہے۔ صرف اسی قدر ضرورت ہے کہ وہ انجیل کو پڑھے۔ پھر صاحب بہادر یہ فرماتے ہیں کہ تم انجیل کو اس طرح پڑ ہو جیسے کہ تم کسی اور کتاب کو پڑہتے ہو اور اس کی نسبت ایسے خیالات کرو جیسے کہ اور کتابوں کی نسبت کرتے ہو۔ اپنی آنکھوں سے تعظیم کی پٹی نکال دو اور اپنے دل سے خوف کے بھوت بھگا دو۔ اور دماغ اوہام سے خالی کرو ۔ تب انجیل مقدس پڑھو تو تم کو تعجب ہو گا کہ تم نے ایک لحظہ کے لئے بھی کیونکر اس جہالت اور ظلم کے مصنف کو عظمند اور نیک اور پاک خیال کیا تھا۔ ایساہی اور بہت سے فلاسفر سائنس کے جاننے والے جو انجیل کو نہایت ہی کراہت سے دیکھتے ہیں۔ وہ انہیں ناپاک تعلیموں کی وجہ سے متنفر ہو گئے۔ جن کو ماننا ایک عقلمند کے لئے در حقیقت نہایت درجہ جائے عار ہے۔ مثلاً یہ ایک جھوٹا قصہ کہ ایک باپ ہے جو سخت مغلوب الغضب اور سب کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔ اور ایک بیٹا ہے جس نے باپ کے مجنونانہ غضب کو اس طرح لوگوں سے ٹال دیا ہے کہ آپ سولی پر چڑھ گیا۔ اب بیچارے محقق یورپین ایسی بیہودہ باتوں کو کیونکر مان لیں ۔ ایسا ہی عیسائیوں کی یہ سادہ لوحی کے خیال کہ خدا کو تین جسم پر منقسم کر دیا۔ ایک وہ جسم جو آدمی M