مسیحی انفاس — Page 467
۴۶۷ ہے کہ اللہ کا رسول خدا تعالیٰ کی طرف سفر کرے اور گھر میں ایک دینار چھوڑ جادے ۔ ملفوظات ۔ جلد ا صفحه ۲۷۴، ۲۷۵ یہ قرآن وہ حکمت ہے جو اپنے کمال کو پہنچی ہوئی ہے اور تمام الہی کتابوں پر حاوی ٣٢٠ ہے اور تمام معارف دینیہ کا اس میں بیان موجود ہے۔ وہ ہدایت کرتا ہے کہ اور ہدایت تأثیرات تعلیم کے لحاظ پر دلائل لاتا ہے اور پھر حق کو باطل سے جدا کر کے دکھلا دیتا ہے۔ اور وہ پر ہیز گاروں کو سے موازنہ (۲) T ان کی نیک اس استعداد یں جو ان میں موجود ہیں یاد دلا دیتا ہے اور اس کی تعلیم یقین کے مرتبہ پر ہے اور وہ غیب گوئی میں بخیل نہیں ہے یعنی اس میں امور غیبیہ بہت بھرے ہوئے ہیں اور پھر صرف اتنا نہیں کہ اپنے اندر ہی امور غیبیہ رکھتا ہے بلکہ اس کا سچا پیرو بھی منجانب اللہ الہام پاکر امور غیبیہ کو پا سکتا ہے اور یہ فیض اسی کتاب کا ہے جو بخیل نہیں ہے۔ اور دوسری کتابیں اگر چہ منجانب اللہ بھی ہوں مگر اب وہ بخیل کا ہی حکم رکھتی ہیں۔ جیسے انجیل اور توریت کہ اب ان کی پیروی کرنے والا کوئی نور حاصل نہیں کر سکتا بلکہ انجیل تو عیسائیوں سے ایک ٹھٹھا کر رہی ہے کیونکہ جو عیسائی ایمانداروں کی علامتیں انجیل نے ٹھہراتی ہیں کہ وہ نا قابل علاج بیماروں یعنی مادر زاد اندھوں اور مجذوموں اور لنگڑوں اور بہروں کو اچھا کریں گے اور پہاڑوں کو حرکت دے دیں گے اور زہر کھانے سے نہیں مریں گے یہ علامتیں عیسائیوں میں نہیں پائی جاتیں بلکہ حضرت عیسی نے یہ بات کہہ کر اگر رائی کے دانہ کے برابر بھی تم میں ایمان ہو تو یہ تمام کام جو میں کرتا تم کرو گے بلکہ مجھ سے زیادہ کرو گے۔ اس بات پر مہر لگادی کہ تمام عیسائی بے ایمان ہیں اور جب بے ایمان ہوئے تو ان کو یہ حق بھی نہیں پہنچتا کہ کسی سے سچائی دین کے بارے میں بحث کریں جب تک پہلے اپنی ایمانداری ثابت نہ کر لیں۔ کیونکہ ان کی حالت یہ گواہی دے رہی ہے کہ بوجہ نہ پائے جانے قرار داده علامتوں کے یا تو وہ بے ایمان ہیں اور یادہ شخص کا ذب ہے جس نے ایسی علامتیں ان کے لئے قرار دیں جو ان میں پائی نہیں جاتیں اور دونوں طور کے احتمال کی رو سے ثابت ہوتا ہے کہ عیسائی لوگ سچائی سے بکلی دور و مہجور و بے نصیب ہیں مگر قرآن کریم نے اپنے پیروؤں کے لئے جو علامتیں قرار دی ہیں وہ صدہا مسلمانوں میں پائی جاتی ہیں جس سے ثابت ہو گیا ہے کہ قرآن کریم خدا تعالیٰ کا بر حق کلام