مسیحی انفاس — Page 462
۴۶۲ ۳۱۵ موازنه اونٹ حضرت مسیح پر نازل ہوتا تو کچھ ناز کی جگہ تھی لیکن ایک چھوٹے سے پر ناز کرنا اور اس کو بے مثل کہنا بے محل ہے۔ دیکھو حواریوں پر بقول ان کے روح القدس بطور آگ شعلوں کے نازل ہوا اور شعلہ کبوتر پر غالب ہے کیونکہ اگر کبوتر شعلہ میں پڑے تو جل جاتا ہے۔ جنگ مقدس ۔ روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۵۰ ، ۲۵۱ روح القدس کبھی کسی نبی پر کبوتر کی شکل پر ظاہر ہوا اور کبھی کسی نبی یا او تار پر گائے کی روح القدس کے شکل پر ظاہر ہوا۔ اور کسی پر کچھ یا مچھ کی شکل پر ظاہر ہوا۔ اور انسان کی شکل کا وقت نہ آیا پر نزول کے لحاظ سے جب تک انسان کامل یعنی ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث نہ ہوا ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہو گئے تو روح القدس بھی آپ پر یوجہ کامل انسان ہونے کے انسان کی شکل پر ہی ظاہر ہوا اور چونکہ روح القدس کی قومی تجلی تھی جس نے زمین سے لے کر آسمان کا افق بھر دیا تھا اس لئے قرآنی تعلیم شرک سے محفوظ رہی۔ لیکن چونکہ کا بھر دیا تھا عیسائی مذہب کے پیشوا پر روح القدس نہایت کمزور شکل میں ظاہر ہوا تھا یعنی کبوتر کی شکل ہے۔ نا پر ۔ اس لئے نا پاک روح یعنی شیطان اس مذہب پر فتح یاب ہو گیا اور اس نے اپنی عظمت اور قوت اس قدر دکھلائی کہ ایک عظیم الشان اثر دہا کی طرح حملہ آور ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے عیسائیت کی ضلالت کو دنیا کی سب ضلالتوں سے اول درجہ پر شمار کیا ہے اور فرمایا۔ کہ قریب ہے آسمان و زمین پھٹ جائیں اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں کہ زمین پر ایک بڑا گناہ کیا گیا کہ انسان کو خدا اور خدا کا بیٹا بنایا۔ اور قرآن کے اول میں بھی عیسائیوں کا رو اور ان کا ذکر ہے۔ جیسا کہ آیت إِيَّاكَ نَعْبُدُ اور وَلَا الضَّالِّينَ سے سمجھا جاتا ہے اور قرآن کے آخر میں بھی عیسائیوں کارڈ ہے جيسا كہ سورة قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدُ اللهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ سے سمجھا جاتا ہے۔ اور قرآن کے درمیان میں بھی عیسائی مذہب کے فتنہ کا ذکر ہے جیسا کہ آیت تَكَادُ السَّمَوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْہ سے سمجھا جاتا ہے۔ اور قرآن سے ظاہر ہے کہ جب سے کہ دنیا ہوئی ۔ مخلوق پرستی اور دجل کے طریقوں پر ایسا زور کبھی نہیں دیا گیا۔ اسی وجہ سے مباہلہ کے لئے بھی عیسائی ہی بلائے گئے تھے نہ کوئی اور