مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 459 of 632

مسیحی انفاس — Page 459

۴۵۹ اس نقطہ مرکز کو جو برزخ بین اللہ و بین الخلق ہے یعنی نفسی نقطہ حضرت سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجرد کلمتہ اللہ تک محدود نہیں کر سکتے جیسا کہ مسیح کو اس نام سے د کیا گیا ہے " کیونکہ یہ نقطہ محمد یہ ظلی طور پر مستجمع جميع مراتب الوہیت ہے ۔ اس محدود ۳۱۱ نقطہ محمد یہ عملی طور پر مستجمع جميع مراتب وجہ سے تمثیلی بیان میں حضرت مسیح کو ابن سے تشبیہ دی گئی ہے باعث اس نقصان کے جو الوہیت ہے، حقیقت عیسویه مظهر اتم صفات ان میں باقی رہ گیا ہے۔ کیونکہ حقیقت عیسو یہ مظہر اتم صفات الوہیت نہیں ہے بلکہ اس مو بیت نہیں ؟ کی شاخوں سے ایک شاخ ہے بر خلاف حقیقت محمدیہ کے کہ وہ جمیع صفات الہیہ کا اتم و اکمل مظہر ہے جس کا ثبوت عقلی و نقلی طور پر کمال درجہ پر پہنچ گیا ہے۔ مچ گیا ہے سو اسی وجہ سے تمثیلی بیان میں کلی طور پر خدائے قادر وذو الجلال سے آنحضرت کو آسمانی کتابوں میں تشبیہ دی گئی ہے جو ابن کے لئے بجائے اب ہے۔ اور حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیم کا اضافی طور پر ناقص ہونا اور قرآنی تعلیم کا سب الہامی تعلیموں سے اکمل واتم ہوا وہ بھی در حقیقت اسی بناء پر ہے کیونکہ ناقص پر ناقص فیضان ہوتا ہے اور اکمل پر اکمل ۔ سرمه چشم آریہ - روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۷۲ تا ۲۷۴ حاشیہ ۳۱۲ قابل غور بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تقریب کو دیکھنا چاہئے یہ قاعدہ کی بات ہے کہ بادشاہ کے دل کی بات تو باد شاہ ہی جانتا ہے۔ مگر جس پر وہ اسرار ظاہر آنحضرت کا بلند مقام دل کرتا ہے یا اپنی رضامندی کے آثار جس پر دکھاتا ہے ضروری ہے کہ ہم اس کو مقرب اور حضرت مسیح سے کہیں۔ اسی طرح پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب ہم دیکھتے ہیں تو آپ کے قرب کا مقابلہ پر کو ہیں تو مقام وہ نظر آتا ہے جو کسی دوسرے کو کبھی نصیب نہیں ہوا۔ وہ عطایا اور نعماء جو آپ کو دیئے گئے ہیں سب سے بڑھ کر ہیں۔ اور جو اسرار آپ پر ظاہر ہوئے اور کوئی اس حد تک پہنچا ہی نہیں۔ قرآن شریف ہی کو دیکھ لو کہ جس قدر عظیم الشان پیش گوئیاں اس میں