مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 632

مسیحی انفاس — Page 29

۲۹ جاوے از یا پرند کسی انسان کے پیٹ سے۔ نکلے۔ پھر ایک تیسری دلیل یہ پیش کی ہے كانا يا كلان الطعام یعنی وہ حضرت یعنی وہ دونوں حضرت مسیح اور آپ کی والدہ صدیقہ کھانا کھایا کرتے تھے۔ اب آپ لوگ آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ انسان کیوں کھانا کھانے سے انسان کا بدن تحلیل ہوتا ہے کھانا کھاتا ہے اور کیوں کھانا کھانے کا محتاج ہے۔ اس میں اصل بھید یہ ہے کہ ہمیشہ انسان کیا خدا کا جسم بھی تحلیل ۔ ہے؟ کے بدن میں سلسلہ تحلیل کا جاری ہے۔ یہاں تک کہ تحقیقات قدیمہ اور جدیدہ سے ثابت ہے کہ چند سال میں پہلا جسم تحلیل پا کر معدوم ہو جاتا ہے اور دوسرا بدن بدل ما ستحلل ہو جاتا ہے اور ہر ایک قسم کی جو غذا کھائی جاتی ہے اس کا بھی روح پر اثر ہوتا ہے کیونکہ یہ امر بھی ثابت شدہ ہے کہ کبھی روح جسم پر اپنا اثر ڈالتی ہے اور کبھی جسم روح پر اپنا اثر ڈالتا ہے۔ جیسے اگر روح کو یکدفعہ خوشی پہنچتی ہے تو اس خوشی کے آثار یعنی بشاشت اور چمک چہرہ پر بھی نمودار ہوتی ہے۔ اور کبھی جسم کے آثار ہنسنے رونے کے روح پر پڑتے ہیں۔ اب جبکہ یہ حال ہے تو کس قدر مرتبہ خدائی سے یہ بعید ہو گا کہ اپنے اللہ کا جسم بھی ہمیشہ اڑتا ہے اور تین چار برس کے بعد اور جسم آوے ماسوا اسکے کھانے کا محتاج ہونا بالکل اس مفہوم کے مخالف ہے۔ جو خدا! خدا تعالیٰ کی ذات یا ذات میں مسلم ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ۔ ؟ حضرت مسیح ان حاجتمندیوں سے بری نہیں تھے ۔ جو تمام انسانوں کو لگی ہوئی ہیں۔ پھر یہ ایک عمدہ دلیل اس بات کی ہے کہ وہ باوجود ان دردوں اور دکھوں کے خدا ہی تھے یا ابن اللہ تھے۔ اور درد ہم نے اس لئے کہا کہ بھوک بھی ایک قسم در دکی ہے۔ اور اگر زیادہ ہو جائے تو موت تک نوبت پہنچاتی ہے۔ جنگ مقدس۔ روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۸۹ تا ۹۳ ہوتا رہتا ہے ؟ ۱۰ استقراء اس کو کہتے ہیں کہ جزئیات مشہودہ کا جہاں تک ممکن ہے تتبع کر کے باقی جزئیات کا انہیں پر قیاس کر دیا جائے ۔ یعنی جس قدر جزئیات ہماری نظر کے سامنے ہوں یا تاریخی سلسلہ میں ان کا ثبوت مل سکتا ہو تو جو ایک شان خاص اور ایک حالت خاص دلیل استقراء بسلسلہ رو قدرتی طور پر وہ رکھتے ہیں اسی پر تمام جزئیات کا اس وقت تک قیاس کر لیں جب تک کہ ات کیا کی خرید ان کے مخالف کوئی اور جزئی ثابت ہو کر پیش نہ ہو مثلا جیسے کہ میں پہلے بیان کر چکا ہوں ۔ نوع انسان کی تمام جزئیات کا تنتج جہاں تک حدامکان میں ہیں ہو کر یہ امر مسلم الثبوت قرار پا چکا ہے کہ انسان کی دو آنکھیں ہوتی ہیں تو اب یہ دو آنکھیں ہونے کا وضاحت