مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 28 of 632

مسیحی انفاس — Page 28

۲۸ خدا کا بیٹا آیا۔ ہی پیش کیا۔ اور فرمایا هند الرسل خلت من قبله یعنی حضرت مسیح علیہ السلام بے شک نبی تھے اور اللہ سلسلہ تلی اور کلام اپنی جل شانہ کے پیارے رسول تھے مگر وہ انسان تھے۔ تم نظر اٹھا کر دیکھو جب سے یہ سلسلہ کے لئے ہمیشہ انسان ہی مرتبہ رسالت حاصل تبلیغ اور کلام الہی کے نازل کرنے کا شروع ہوا ہے ہمیشہ اور قدیم سے انسان ہی رسالت کا کرتے رہے نہ کہ کبھی مرتبہ پا کر دنیا میں آتے رہے ہیں یا کبھی اللہ تعالیٰ کا بیٹا بھی آیا ہے اور خلت کا لفظ اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ جہاں تک تمہاری نظر تاریخی سلسلہ کو دیکھنے کے لئے وفاکر سکتی ہے اور لوگوں کا حال معلوم کر سکتے ہو خوب سوچو اور سمجھو کہ کبھی یہ سلسلہ ٹوٹا بھی ہے۔ کیا تم کوئی ایسی نظیر پیش کر سکتے ہو جس سے ثابت ہو سکے کہ یہ امر ممکنات میں سے ہے پہلے بھی کبھی کبھی کبھی ہوتا آیا ہے۔ سو عقلمند آدمی اس جگہ ٹھہر کر اور اللہ جل شانہ کا خوف کر کے دل میں سوچے کہ حادثات کا سلسلہ اس بات کو چاہتا ہے کہ اس کی نظیر بھی کبھی کسی زمانہ میں پائی جاوے۔ لئے ہاں اگر بائبل کے وہ تمام انبیاء اور صلحاء جن کی نسبت بائبل میں بھی الفاظ موجود ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے بیٹے تھے یا خدا تھے حقیقی معنوں پر حمل کر لئے جاویں تو بے شک اس صورت میں ہمیں اقرار کرنا پڑے گا کہ خدائے تعالیٰ کی عادت ہے کہ وہ بیٹے بھی بھیجا کرتا ہے بلکہ بیٹے کیا کبھی کبھی بیٹیاں بھی۔ اور بظاہر یہ دلیل تو عمدہ معلوم ہوتی ہے اگر عیسائی تو صاحبان اس کو پسند فرمادیں اور کوئی اس کو توڑ بھی نہیں سکتا کیونکہ حقیقی غیر حقیقی کا تو وہاں کوئی ذکر ہی نہیں بلکہ بعض کو تو پہلوٹا ہی لکھ دیا۔ ہاں اس صورت میں بیٹیوں کی میزان بہت بڑھ جائے گی۔ غرضیکہ اللہ جل شانہ شانہ نے سب سے پہلے ابطال الوہیت کے۔ بھی دلیل استقرائی پیش کی ہے۔ پھر بعد اس کے ایک اور دلیل پیش کرتا ہے وامه صدیقه یعنی والدہ حضرت مسیح کی راست باز تھی۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اگر حضرت مسیح کو اللہ جل شانہ کا حقیقی بیٹا فرض کر لیا جاوے تو پھر یہ ضروری امر ہے کہ ا اور وہ دوسروں کی طرح ایسی والدہ کے اپنے تولد میں محتاج نہ ہوں جو باتفاق فریقین انسان تھی کیونکہ یہ بات نہایت ظاہر اور کھلی کھلی ہے کہ قانون قدرت اللہ جل شانہ کا اسی طرح پر واقع ہے کہ ہر ایک جاندار کی اولاد اس کی نوع کے موافق ہوا کرتی ہے۔ مثلاً اولاد دیکھو کہ جس قدر جانور ہیں مثلاً انسان اور گھوڑا اور گدھا اور ہرا رھا اور ہر ایک پرند وہ اپنی اپنی نوع کے لحاظ سے وجود پذیر ہوتے ہیں یہ تو نہیں ہوتا کہ انسان کسی پرندہ سے پیدا ہو مسیح اگر خدا کا بیٹا ہو تو محتاج نہ ہو۔