مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 444 of 632

مسیحی انفاس — Page 444

بام بام بام ہو جائیں یا سزا دینے میں ایسی جلدی کرتے ہیں کہ بغیر اس کے جو پوری تحقیق اور تفتیش کریں ایک بے گناہ کو بلا میں گرفتار کر دیتے ہیں ان کو چاہئے کہ صبر کریں یعنی سزا دینے ب بائیں کی طرف جلدی نہ دوڑیں۔ اول خوب تحقیق اور تفتیش کریں اور خوب سوچ لیں کہ سزا اور دینے کا محل اور موقعہ بھی ہے یا نہیں۔ پھر اگر موقعہ ہو تو دیں ورنہ رک جائیں۔ اور یہ مضمون صرف اسی آیت میں نہیں بیان کیا گیا بلکہ قرآن شریف کی اور کئی آیتوں میں بھی بیان ہے چنانچہ ایک جگہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَجَزَاؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ یعنی بدی کی سزا اسی قدر بدی ہے لیکن جو شخص عفو کرے اور ایسی عفو ہو کہ اس سے کوئی اصلاح مقصود ہو تو وہ خدا سے اپنا اجر پائے گا۔ یعنی بے محل اور بے موقعہ عفو نہ ہو جس سے کوئی بد نتیجہ نکلے اور کوئی فساد پیدا ہو بلکہ ایسے موقعہ پر عفو ہو جس سے کسی صلاحیت کی امید ہو اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بنی آدم کی طبیعتیں یکسان واقعہ نہیں ہوئیں اور گناہ کرنے والوں کی عادتیں اور استعداد میں ایک طور کی نہیں ہوا کرتیں بلکہ بعض تو سزا کے لائق ہوتے ہیں اور بغیر سزا کے ان کی اصلاح ممکن نہیں اور بعض عفو اور در گذر سے یے فائدہ فائدہ اٹھاتے ہیں اور سزا دینے سے چڑ کر اور بھی بدی پر مستحکم مستحکم ہو ہو جاتے جا۔ ہیں۔ غرض یہ تعلیم وقت اور موقعہ بینی کی قرآن شریف میں جا بجا پائی جاتی ہے اگر ہم تفصیل سے لکھیں تو ایک بڑار سالہ بن جاتا ہے۔ ९९ یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جیسا کہ توریت میں آیا ہے کہ ” خدا سینا سے آیا اور سیعیر سے طلوع کیا اور فاران کے پہاڑ سے ان پر چمکا " ۔ اسی طرح حقیقی چمک ہر ایک تعلیم کی اسلام سے ہی پیدا ہوئی ہے۔ خدا کے کام اور خدا کی کلام کا کامل معانقہ قرآن نے ہی کرایا ہے۔ توریت نے سزاؤں پر زور دیا تھا اور چونکہ انجیل ایسے وقت میں نازل ہوئی جبکہ یہود میں انتقام کشی کی عادتیں اور کینہ اور بغض حد سے بڑھ گیا تھا اس لئے انجیل فاران عربی لفظ ہے جس کے معنی ہیں دو بھاگنے والے اور مصدر اس کا فرار ہے۔ چونکہ حضرت اسمعیل علیہ السّلام اور ان کی والدہ مطہرہ صدیقہ ہاجرہ رضی اللہ عنہا سادہ کی بد خوئی اور ظلم کے ہاتھ سے تنگ آکر الہام الہی سے مکہ معظمہ کی زمین میں بھاگ آئے اس لئے اس زمین کا نام فاران ہوا یعنی دو بھاگنے والے ۔ منہ