مسیحی انفاس — Page 443
۴۴۳ اس وجہ سے کہ یہ لوگ علم عربیت سے محض ناواقف اور بے بہرہ ہیں۔ اس لئے ان کو کچھ بھی استعداد نہیں کہ قرآن کے الفاظ سے اس کے صحیح معنے سمجھ سکتیں اور شرارت یہ کہ یہ آیت صریح بتلارہی ہے کہ اس میں انجیل کی طرح صرف ایک ہی پہلو در گذر اور عفو پر زور نہیں دیا گیا بلکہ انتظام کو تو حکم کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اور عفو کی جگہ صبر کا لفظ ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے جو سزا دینے میں جلدی نہیں چاہئے۔ اور عفو کرنے کے لئے کوئی حکم نہیں دیا ۔ مگر پھر بھی ٹھاکر داس صاحب نے دانستہ اپنی آنکھ بند کر کے خواہ نخواہ قرآن شریف کی کامل تعلیم کو انجیل کی ناقص اور حکمی تعلیم کے ساتھ مشابہت دینا چاہا ہے۔ ناظرین یادرکھیں کہ قرآن شریف کی آیت جس کا غلط ترجمہ ٹھاکر داس صاحب نے پیش کیا ہے، یہ ہے۔ وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُو قِبْتُم بِهِ وَلَئِن صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ یعنی اگر تم ایذاء کے بدلے ایذا دو تو اسی قدر دو جس قدر تم کو ایذا دیا گیا اور اگر صبر کرو تو صبر کرنا ان کے لئے بہتر ہے جو سزا دینے میں دلیر ہیں اور اندازہ اور حد سے گزر جاتے ہیں اور ر ہے جو سزا دینے دلیر ہیں اور ! بدر فتار ہیں یعنی محل اور موقعہ کو شناخت نہیں کر سکتے۔ الصابرین میں جو صبر کا لفظ ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ بے تحقیق اور بے محل سزا دینا۔ اسی وجہ سے آیت میں خدائے تعالیٰ نے یہ نہ فرمایا لهو خير لكم بلکہ فرمایا لهو خير للصابون تا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ اس جگہ لفظ صبر کے وہ معنی نہیں ہیں جو پہلے لفظ میں ہیں۔ اور اگر وہی معنی ہوتے تو بجائے لکم کے للطبریں رکھنا بے معنی اور بلاغت کے بر خلاف ہوتا۔ لغت عرب میں جیسا کہ صبر رو کنے کو کہتے ہیں۔ ایسا ہی بیجا دلیری اور بدرفتاری بے تحقیق کسی کام کرنے کو کہتے ہیں۔ اب ناظرین سوچ لیں کہ اس آیت کا صرف یہ مطلب ہے کہ ہر ایک مومن پر یہ ن پریہ بات فرض کی گئی ہے کہ وہ اسی قدر انتقام لے جس قدر اس کو دکھ دیا گیا ہے ۔ لیکن اگر وہ خبر کرے یعنی سزا دینے میں جلدی نہ کرے تو ان لوگوں کے لئے صبر بہتر ہے جن کی عادت چالا کی اور بدرفتاری اور بد استعمالی ہے یعنی جو لوگ اپنے محل پر سزا نہیں دیتے بلکہ ایسے لوگوں ۔ سے بھی انتقام لیتے ہیں کہ کہ اگر ان سے احسان کیا جائے تو وہ اصلاح پذیر