مسیحی انفاس — Page 440
ام سوم دشمن ظالم کاپر زور طمانچہ مادر مہربان کی طرح نہیں ہو گابلکہ وہ تو ایک ہی طمانچہ سے ایک ہی ضرب سے دانت بھی نکال ڈالے گا اور آنکھ بھی۔ پس اس تعلیم سے تو یہی ثابت ہوا کہ اگر سچے عیسائی ہو تو دانت اور آنکھ نکالنے دو اور مقابلہ نہ کرو ۔ اور اپنی آنکھ اور دانت کو مت بچاؤ۔ سو اس وقت وہی اعتراض انجیل پر ہو گا جو خیر الدین صاحب نے پیش کیا ہے۔ اور اس آیت کا یہ بھی مطلب ہے کہ اگر کوئی ظالم تمہاری آنکھ نکال دے یا دانت توڑ دے تو یہ کوشش بھی مت کرو کہ اس کی آنکھ بھی پھوڑی جائے یا اس کا دانت بھی نکال دیا جائے۔ یعنی نہ آپ انتقام لو اور نہ حکام کے ذریعہ سے انتقام کی خواہش نہ کرو۔ کیونکہ اگر انتقام ہی لینا ہے تو پھر ایسی تعلیم کو توریت پر کیا فوقیت ہے۔ آپ سزا دینا یا حکام سے سزاد لوانا ایک ہی بات ہے۔ اور اگر کوئی عیسائی کسی ظالم کو حکام کے ذریعہ سے سزا دلائے، تو اسے یادرکھنا چاہئے کہ توریت بھی تو ایسے موقعہ پر یہ اجازت نہیں دیتی کے ایسے مجرم کی شخص مظلوم آپ ہی آنکھ پھوڑ دے یا دانت نکال دے بلکہ ہدایت کرتی ہے کہ ایسا شخص حکام کے ذریعہ سے چارہ جوئی کرے۔ پس اس صورت میں مسیح کی تعلیم میں کونسی زیادتی ہوئی ۔ یہ تعلیم تو پہلے ہی سے توریت میں موجود تھی۔ اس جگہ ہم صفائی بیان کے لئے پادری صاحب سے دریافت کرتے ہیں کہ اگر ادری صاحب مثلا کسی موقعہ پر کوئی ایسا اتفاق ہو جائے کہ کوئی ظالم آپ کی آنکھ پھوڑ دے یا آپ کا ایک دانت نکال دے تو انجیل کی رُو سے آپ ایسے ظالم سے کس طرح پیش آئیں گے۔ اگر کہو کہ اس وقت ہم بدی کا بدی کے ساتھ مقابلہ نہیں کریں گے مگر عدالت کے ذریعہ سے انتقام لیں گے۔ تو یہ کاروائی انجیلی تعلیم کا ہر گز منشاء نہیں ہے۔ کیونکہ اگر آنکھ کے بدلے ضرور آنکھ کو پھوڑنا ہے۔ اور کسی قاضی یا حاکم کی طرف رجوع کرنا ہے تو یہ توریت کی تعلیم ہے جو آپ کے یسوع صاحب کے وجود سے بھی پہلے بنی اسرائیل میں رائج تھی اور اب بھی کمزور اور ضعیف لوگ کب شریروں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ وہ بھی تو فوجداری اور مالی مقدمات میں عدالتوں کی طرف ہی رجوع کرتے ہیں۔ مگر متی کے پانچ باب میں جس طرز بیان کو آپ کے یسوع صاحب نے اختیار کیا ہے یعنی توریت کے احکام پیش کر کے جابجا کہا ہے کہ اگلوں سے یہ کہا گیا ہے مگر میں تمہیں یہ کہتا ہوں ۔ اس طرز سے صاف طور پر ان کا یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ وہ توریت کی تعلیم