مسیحی انفاس — Page 439
۴۳۹ جائے کہ توریت ہر ایک کہ سزا دینے کا اختیار دیتی ہے ۔ بلکہ یہ بات تو ہر ایک توربیت پڑھنے والے کو معلوم ہے کہ توریت کی تمام سزائیں اور حدود قاضیوں کی معرفت عمل میں آتی تھیں ۔ اور جرائم پیشہ کی پاداش کا توریت میں بھی انتظام تھا کہ قاضیوں کے ذریعہ سے ہر ایک مجرم سزا پاوے ۔ اور اگر اس تقریر سے پادری صاحب کا یہ مطلب ہے کہ گو توریت میں قاضیوں کے ذریعہ سے سزائیں ہوتی تھیں مگر خود حفاظتی کے لئے جس قدر مقابلہ کی ضرورت تھی یہودی لوگ اس مقابلہ کے لئے مجاز تھے۔ اب انجیل میں کمال یہ ہے کہ عیسائی اس مقابلہ سے مجاز نہیں ہیں بلکہ حکم ہے کہ ظالم کا منشاء پورا ہونے دیں۔ مثلاً اگر کوئی ظالم ایک عیسائی کی آنکھ پھوڑنا چاہے تو عیسائی کو چاہئے کہ بخوشی اس کو پھوڑنے دے اور پھر کانا یا اندھا ہونے کے بعد عدالت میں جاکر نالش کر دے۔ تو ہم نہیں سمجھ سکتے کہ یہ کسی قسم کی اخلاقی تعلیم ہے اور ایسے اخلاق سے نفسانی جذبات پر کسی قسم کا اثر پڑے گا۔ بلکہ ایسا انسان نہایت بد بخت انسان ہے کہ اپنی آنکھ ناحق ضائع کرا کر پھر صبر نہ کر سکا اور اپنی قوت انتظام کو دکام کے ذریعہ سے اپنے وقت میں عمل میں لایا جواس کو کچھ نفع نہیں دے سکتا تھا۔ ایسے عیسائی سے تو یہودی ہی اچھا رہا جس نے خود حفاظتی کو کام میں لا کر اپنی آنکھ کو بچالیا۔ شاید پادری ٹھاکر داس صاحب کہیں کہ ترک مقابلہ اس حالت میں ہے جب کہ کوئی شخص تھوڑی تکلیف پہنچانا چاہے۔ تکلیف پہنچانا چاہیے۔ لیکن اگر بیچ بیچ آنکھ پھوڑنے یا دانت نکالنے کا ارادہ کرے تو پھر خود حفاظتی کے لئے مقابلہ کرنا چاہئے۔ تو یہ خیال پادری صاحب کا انجیل کی تعلیم کے مخالف ہو گا ۔ متی باب ۵ آیت ۳۸ میں صریح یہ عبارت ہے کہ ” تم سن چکے ہو کہ کہا گیا آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت۔ ۳۹۔ پر میں تمہیں کہتا ہوں کہ ظالم کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو تیری داہنی گال پر طمانچہ مارے دوسری بھی اس کی طرف پھیر دے۔ ९९ اور ظاہر ہے کہ اگر کسی کے منہ پر ایک زور آور کے ہاتھ سے ظالمانہ ارادہ سے ایک زور کا طمانچہ لگے تو اس ایک ہی طمانچہ سے دانت بھی نکل سکتے ہیں۔ اور آنکھ بھی پھوٹ سکتی ہے۔ اور یسوع صاحب فرماتے ہیں کہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری بھی پھیر دے تو اس سے ان کا بھی یہی مطلب معلوم ہوتا ہے کہ تا دوسری طرف کے بھی دانت نکلیں اور آنکھ بھی پھوٹے اور اندھا ہو جائے نہ صرف کا تار ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ