مسیحی انفاس — Page 437
۴۳۷ ۳۰۵ انجیلوں میں حلیموں ۔ غریبوں۔ مسکینوں کی تعریف کی گئی ہے۔ اور نیز ان کی تعریف جو ستائے جاتے ہیں اور مقابلہ نہیں کرتے۔ مگر قرآن صرف یہی نہیں کہتا کہ تم ہر ے وقت مسکین ہے رہو اور شہر کا مقابلہ نہ کرو۔ بلکہ کہتا ہے کہ حلم اور مسکینی اور غربت اور ترک مقابلہ اچھا ہے ۔ مگر اگر بے محل استعمال کیا جائے تو بڑا ہے۔ پس تم محل اور موقعہ ۔ ہے حلیموں، غریبوں اور کو دیکھ کر ہر ایک نیکی کرو۔ کیونکہ وہ نیکی بدی ہے جو محل اور موقعہ کے برخلاف مسکینوں کی تعریف ہے۔ جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ مینہ کس قدر عمدہ اور ضروری چیز ہے ۔ لیکن اگر وہ بے موقعہ ہو تو وہی تباہی کا موجب ہو جاتا ہے تم دیکھتے ہو کہ ایک ہی سرد غذا یا گرم غذا کی مداومت سے تمہاری صحت قائم نہیں رہ سکتی۔ بلکہ صحت جبھی قائم رہے گی جب موقعہ اور محل کے موافق تمہارے کھانے اور پینے کی چیزوں میں تبدیلی ہوتی رہے۔ پس درشتی اور نرمی اور عفو اور انتظام اور دعا اور ہر دعا اور دوسرے اخلاق میں جو تمہارے لئے مصلحت وقت ہے۔ وہ بھی اسی تبدیلی کو چاہتی ہے۔ اعلیٰ درجہ کے علیم اور خلیق بنو۔ لیکن نہ بے محل اور بے موقعہ ۔ اور ساتھ اس کے یہ بھی یاد رکھو کہ حقیقی اخلاق فاصلہ جن کے ساتھ نفسانی اغراض کی کوئی زہریلی آمیزش نہیں۔ وہ اوپر سے بذریعہ روح القدس آتے ہیں۔ سو تم ان اخلاق فاصلہ کو محض اپنی کوشش سے حاصل نہیں کر سکتے جب تک تم کو اوپر سے وہ اخلاق عنایت نہ کئے جائیں۔ اور ہر ایک جو آسمانی فیض سے بذریعہ روح القدس اخلاق کا حصہ نہیں پاتا۔ وہ اخلاق کے دعوے میں جھوٹا ہے اور اس کے پانی کے نیچے بہت سا کیچڑ ہے اور بہت سا گوبر ہے۔ جو نفسانی جوشوں کے وقت ظاہر ہوتا ہے۔ سو تم خدا سے ہر وقت قوت مانگو جو اس کیچڑ اور اس گوبر سے تم نجات پاؤ۔ اور روح القدس تم میں بچی طہارت اور لطافت پیدا کرے ۔ کشتی نوح ۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۴ ، ۴۵ انجیل متی ۵ باب میں ہے کہ ” تم سن چکے ہو کہ کہا گیا۔ آنکھ کے بدلے آنکھ دو ١٣٠٦ اور دانت کے بدلے دانت۔ پر میں تمہیں کہتا ہوں کہ ظالم کا مقابلہ نہ کرنا " اس تعلیم پر ایک صاحب خیر الدین نام عیسائی نے ڈرتے ڈرتے اعتراض کیا ہے کہ ایسے احکام اس کی عیسائیوں میں طبعی قانون خود حفاظتی کے بر خلاف ہیں جو جمیع حیوانات بلکہ پرندوں اور کیڑوں میں بھی نظر آرہا ہے۔ اور ثابت نہیں ہو سکتا کہ کسی زمانہ میں باستثناء ذات مسیح کے احکام پر کسی