مسیحی انفاس — Page 436
۳۰۴ نیم و دعوت روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۳۶ تا ۴۳۸ نیز دیکھیں۔ لیکچر لاہور ۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۱۲۶ ۔ ۲۰ ۱۶۳ ۱۶۲ تریاق القلوب - روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۱۶۲ چشمه سیحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۴۵ ملفوظات ۔ جلد ۲ صفحہ ۴۰، ۴۱ قرآن انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ اپنے دشمنوں سے پیار کرو۔ بلکہ وہ کہتا ہے کہ چاہئے کہ نفسانی رنگ میں تیرا کوئی بھی دشمن نہ ہو اور تیری ہمدردی ہر ایک کے لئے عام دشمنوں سے پیار ہو۔ مگر جو تیرے خدا کا دشمن ۔ تیرے رسول کا دشمن اور کتاب اللہ کا دشمن ہے وہی خدا کار - کار اور تیرا دشمن ہو گا۔ ہو تو ایسوں کو بھی دعوت اور دعا سے محروم نہ رکھ ۔ اور چاہئے کہ توان کے اعمال سے دشمنی رکھے نہ ان کی ذات سے۔ اور کوشش کرے کہ وہ درست ہو جائیں۔ اور اس بارے میں فرماتا ہے۔ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى یعنی خدا تم سے کیا چاہتا ہے۔ بس یہی کہ تم تمام نوع انسان سے عدل کے ساتھ پیش آیا سے کرو۔ پھر اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ ان سے بھی نیکی کرو جنہوں نے تم سے کوئی نیکی نیکی نے تم کوئی نیکی نہیں کی۔ پھر اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ مخلوق خدا سے ایسی ہمدردی کے ساتھ پیش آو کہ گویا تم ان کے حقیقی رشتہ دار ہو ۔ جیسا کہ مائیں اپنے بچوں سے پیش آتی ہیں۔ کیونکہ احسان میں ایک خود نمائی کا مادہ بھی مخفی ہوتا ہے۔ اور احسان کرنے والا کبھی اپنے احسان کو جتلا بھی دیتا ہے۔ لیکن وہ جو ماں کی طرح طبعی جوش سے نیکی کرتا ہے وہ کبھی خود نمائی نہیں کر سکتا۔ پس آخری درجہ نیکیوں کا طبعی جوش ہے جو ماں کی طرح ہو۔ اور یہ آیت نہ صرف مخلوق کے متعلق ہے بلکہ خدا کے متعلق بھی ہے۔ خدا سے عدل یہ ہے کہ اس کی نعمتوں کو یاد کر کے اس کی فرمانبرداری کرنا۔ اور خدا سے احسان یہ ہے کہ اس کی ذات پر ایسا یقین کر لینا کہ گویا اس کو دیکھ رہا ہے۔ اور خدا سے ایتاء ذی القربی یہ ہے کہ اس کی عبادت نہ تو بہشت کے طمع سے ہو اور نہ دوزخ کے خوف سے۔ بلکہ اگر فرض کیا جائے کہ نہ بہشت ہے اور نہ دوزخ ہے۔ تب بھی جوش محبت اور اطاعت میں فرق نہ آوے۔ کشتی نوح - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۳۰، ۳۱