مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 425 of 632

مسیحی انفاس — Page 425

۴۲۵ اپنے بچہ کو پھانسی دے دیا۔ مولوی صاحب ذ کر کیا کرتے ہیں کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو کہہ رہاتھا رہا رہا تھا تھا کہ کہ خدا خدا نے اس جہان کو کیسے پیار پیار کیا۔ اپنا اپنا بیٹا پھانسی دے دیا۔ لڑکا ہے یہ سن کر کر ڈر گیا۔ اور بھاگ گیا۔ اور جب اس سے ڈرنے کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے یہی کہا کہ جب خدا نے یہ حرکت کی تو تجھ سے کیا امید ہو سکتی ہے ۔ انسان خدا سے محبت کرتا ہے تو پھر اس کو سب سے مقدم کر لیتا ہے۔ ہزاروں بھیڑ بکریاں موجود ہیں۔ اگر محبت کا یہی نشان ہے اور مارنے والے عزیز ہوتے ہیں تو کیا یہ چیزیں خدا کو انسان سے عزیز ترین ہوتی ہیں ؟ مگر ایسا نہیں ۔ لاکھوں چیزیں انسان کے لئے وہ ہلاک کرتا ہے۔ پانی میں کیڑے رکھتے ہوتے ہیں۔ یہ بھی خدا تعالیٰ کی حکمت ہے کیونکہ بسیط چیزیں ہلاک کر دیتی ہیں۔ غرض یہ اصل صحیح نہیں ہے جو سمجھ لیا جاتا ہے کہ وہ جس سے پیار کرتا ہے اس کو ہلا کرتا ہے۔ سچا خدا جس سے پیار کرتا ہے اس کی تائید کرتا ہے کیونکہ وہ خدا فرماتا ہے سے پیار ہے اس تان كتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَ أَنَا وَرُسُلِي E عیسائی اپنے خدا کی نسبت ایسا نمونہ پیش نہیں کرتے اور حقیقت میں نہیں ہے۔ کیونکہ مسیح کا اپنا نمونہ یہ ہے کہ دشمنوں کے ہاتھوں میں سخت ذلیل ہوئے اور اس وقت وہ اگر خدا تھے یا خدا کے بیٹے تھے تو دشمنوں کو خطرناک ذلت پہنچنی چاہئے تھی مگر بظاہر دشمن کامیاب ہو گئے اور انہوں نے پکڑ کر صلیب پر چڑھا دیا۔ لیکن ہمارا خدا ایسا نہیں ہے اس ہوگئے پر دیا۔ ہمارا نے اپنے رسولوں کی ہر میدان میں نصرت کی اور کامیاب کیا۔ اب دوسرے مذہب اس کا نمونہ کہاں سے لائیں۔ یہ یاد رکھو کہ ہمارا خدا کسی کو پھانسی دینا نہیں چاہتا۔ جس قدر کام کریں گے اس میں عزت پائیں گے ۔ اس نے ہمارے قومی کو بیکار نہیں رکھا۔ بقول سعدی۔ حقا که با عقوبت دوزخ برابر است رفتن بپائے مردی ہمسایہ در بہشت۔ خدا نے چاہا ہے کہ تم زنانہ سیرت نہ بنو بلکہ مرد بنو۔ اب کیسی بات ہے ۔ کیسے احسان کئے ہیں کہ ہم پر حقائق و معارف کے خزانے کھولے ہیں۔ کسی کے سامنے اس حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ امسیح اول رضی اللہ عنہ مراد ہیں۔ (مرتب)