مسیحی انفاس — Page 408
۲۸۱ شراب ۱۲۸۲ غصہ ۲۸۳ بیوی کی بد چلنی سالی وغیرہ سے شادی کرنا انجیل کے کس حکم کے بر خلاف ہے۔ ملفوظات ۔ جلد ۸ صفحه ۳۶،۳۵ قرآن تمہیں انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ اپنی شراب مت پیو کہ مست ہو جاو۔ بلکہ اپنی وہ کہتا ہے کہ ہر گز نہ پی۔ ورنہ مجھے خدا کی راہ نہیں ملے گی۔ اور خدا تجھ سے ہم کلام راہ ۔ اور خ نہیں ہو گا اور نہ پلیدیوں سے پاک کرے گا۔ اور وہ کہتا ہے کہ یہ شیطان کی ایجاد ہے۔ تم اس سے بچو۔ کشتی نوح - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۹ قرآن تمہیں انجیل کی طرح فقط یہ نہیں کہتا کہ اپنے بھائی پر بے سبب غصہ مت ہو۔ بلکہ وہ کہتا ہے کہ نہ صرف اپنے ہی غصہ کو تھام بلکہ تو اصوا بالمرحمہ پر بھی عمل کر اور دوسروں کو بھی کہتارہ کہ ایسا کریں۔ اور نہ صرف خود رحم کر بلکہ رحم کے لئے اپنے تمام نہ خود رحم بھائیوں کو وصیت بھی کر ۔ کشتی نوح - روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۹ قرآن تمہیں انجیل کی طرح یہ نہیں کہتا کہ بجز زنا کے اپنی بیوی کی ہر ایک ناپاکی پر صبر کرو اور طلاق مت دو۔ بلکہ وہ کہتا ہے کہ الطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ - قرآن کا یہ منشا ہے کہ ناپاک پاک کے ساتھ رہ نہیں سکتا ۔ پس اگر تیری بیوی زنا تو نہیں کرتی مگر شہوت کی نظر سے غیر لوگوں کو دیکھتی ہے اور ان سے بغل گیر ہوتی ہے اور زنا کے مقدمات اس سے صادر ہوتے ہیں گو ابھی تکمیل نہیں ہوئی اور غیر کو اپنی برہنگی دکھلادیتی ہے اور مشرکہ اور مفسدہ ہے اور جس پاک خدا پر تو ایمان رکھتا ہے اس سے وہ بیزار ہے پر رکھتا تو اگر وہ باز نہ آوے تو تو اسے طلاق دے سکتا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے اعمال میں تجھ سے علیحدہ ہو گئی۔ اب تیرے جسم کا ٹکڑہ نہیں رہی پس تیرے لئے اب جائز نہیں ہے کہ تو دیوئی سے اس کے ساتھ بسر کرے کیونکہ اب وہ تیرے جسم کا ٹکڑہ نہیں ایک گندہ اور متعفن عضو ہے جو کاٹنے کے لائق ہے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ باقی عضو کو بھی گندہ کر دے اور تو مر جائے۔ - لد ٧٠