مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 406 of 632

مسیحی انفاس — Page 406

۴۰۶ جھوٹ اور مقدمات میں عدل اور انصاف کو ہاتھ سے نہ نہ دینا یہ بہت مشکل اور فقط فقط جوانمردوں جوان کا کام ہے ۔ اکثر لوگ اپنے شریک دشمنوں سے محبت تو کرتے ہیں اور میٹھی میٹھی باتوں سے پیش آتے ہیں مگر ان کے حقوق دبا لیتے ہیں۔ ایک بھائی دوسرے بھائی سے محبت کرتا ہے اور محبت کے پردہ میں دھوکا دے کر اس کے حقوق دبا لیتا ہے۔ مثلاً اگر زمیندار ہے تو چالاکی سے اس کا نام کاغذات بندوبست میں نہیں لکھواتا۔ اور یوں اتنی محبت کہ اس پر قربان ہوا جاتا ہے۔ پس خدا تعالیٰ نے اس آیت میں محبت کا ذکر نہ کیا بلکہ معیار محبت کا ذکر کیا۔ کیونکہ جو شخص اپنے جانی دشمن سے عدل کرے گا اور سچائی اور انصاف سے در گزر نہیں کرے گا۔ وہی ہے جو سچی محبت بھی جو کرتا ہے۔ مگر آپ کے خدا کو یہ تعلیم یاد نہ رہی۔ کہ ظالم دشمنوں کے ساتھ عدل کرنے پر ایسا زور دیتا جو قرآن نے دیا اور دشمن کے ساتھ سچا معاملہ کرنے کے لئے اور سچائی کو لازم پکڑنے کے لئے وہ تاکید کرتا جو قرآن نے تاکید کی۔ اور تقوی کی باریک راہیں سکھاتا مگر افسوس کہ جو بات سکھلائی دھوکے کی سکھلائی اور پرہیز گاری کی سیدھی راہ پر قائم نہ کر سکا۔ یہ آپ کے فرضی یسوع کی نسبت ہم کہتے ہیں جس کے چند پریشان ورق آپ کے ہاتھ میں ہیں اور جو خدائی کا دعوی کرتا کرتا آخر مصلوب ہو گیا اور ساری رات رورو کر دعا کی کہ کسی طرح بچ جاؤں مگر بچ نہ سکا۔ نور القرآن ۔ حصہ دوم ۔ روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۰۹ ، ۴۱۰ ،۴۰۹ قرآن نے جھوٹوں پر لعنت کی ہے۔ اور نیز فرمایا ہے کہ جھوٹے شیطان کے مصاحب ہوتے ہیں۔ اور جھوٹے بے ایمان ہوتے ہیں اور جھوٹوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں۔ اور صرف یہی نہیں فرمایا کہ تم جھوٹ مت بولو۔ بلکہ یہ بھی فرمایا ہے کہ تم جھوٹوں کی صحبت بھی چھوڑ دو۔ اور ان کو اپنا یار دوست مت بناؤ۔ اور خدا سے ڈرو اور بچوں کے ساتھ رہو۔ اور ایک جگہ فرماتا ہے کہ جب تو کوئی کلام کرے تو تیری کلام محض صدق ہو۔ ٹھٹھے کے طور پر بھی اس میں جھوٹ نہ ہو ۔ اب بتلاؤ یہ تعلیمیں انجیل میں کہاں ہیں۔ اگر ایسی تعلیمیں ہوتیں تو عیسائیوں میں اپریل فول کی گندی رسمیں اب تک کیوں جاری رہتیں۔ دیکھو اپریل فول کیسی بری رسم ہے کہ ناحق جھوٹ بولنا اس میں تہذیب کی بات سمجھی جاتی ہے۔ یہ عیسائی تہذیب اور انجیلی تعلیم ہے۔ معلوم ہوتا ہے