مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 399 of 632

مسیحی انفاس — Page 399

۳۹۹ اس اشتراک کی وجہ سے کہہ سکتے ہیں کہ بعض بعض کی نقل ہیں۔ چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۷۰ ۲۷۲ یہ سوال کہ مذہب کا تقترف انسانی قوئی پر کیا ہے انجیل نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا 1 کیونکہ انجیل حکمت کے طریقوں سے دور ہے لیکن قرآن شریف بڑی تفصیل سے بار بار اس مسئلہ کو حل کرتا ہے کہ مذہب کا یہ منصب نہیں ہے کہ انسانوں کی فطرتی قوی کی مذہب کا تصرف انسانی تبدیل کرے اور بھیڑیے کو بکری بنا کر دکھلائے ۔ بلکہ مذہب کی صرف علت خالی یہ ہے قوی پر کیا ہے ؟ کہ جو قومی اور ملکات فطر تا انسان کے اندر موجود ہیں ان کو اپنے محل اور موقعہ پر لگانے کے اندر موجود اپنے کی لئے رہبری کرے۔ مذہب کا یہ اختیار نہیں ہے کہ کسی فطرتی قوت کو بدل ڈالے۔ ہاں یہ اختیار ہے کہ اس کو محل پر استعمال کرنے کے لیئے ہدایت کرے اور صرف ایک قوت مثلاً رحم یا عفو پر زور نہ ڈالے بلکہ تمام قوتوں کے استعمال کے لیئے وصیت فرمائے کیونکہ انسانی قوتوں میں سے کوئی بھی قوت بڑی نہیں بلکہ افراط اور تفریط اور بد استعمالی بری ہے اور جو شخص قابل ملامت ہے وہ صرف فطرتی قوی کی وجہ سے قابل ملامت نہیں بلکہ ان کے بد استعمالی کی وجہ سے قابل ملامت ہے ۔ غرض قسام مطلق نے ہر ایک قوم کو فطری قولی کا برابر حصہ دیا ہے۔ اور جیسا کہ ظاہری ناک اور آنکھ اور منہ اور ہاتھ اور پیروغیرہ تمام قوموں کے انسانوں کو عطا ہوئے ہیں۔ ایسا ہی باطنی قوتیں بھی سب کو کو عطا ہوتی ہیں۔ اور ہر ایک قوم میں بلحاظ اعتدال یا افراط اور تفریط کے اچھے آدمی بھی ہیں اور بڑے بھی۔ لیکن مذہب کے اثر کے رو سے کسی قوم کا اچھا بن جانا یا کسی مذہب کو کسی قوم کی شائستگی کا اصل موجب قرار دینا اس وقت ثابت ہو گا کہ اس مذہب کے بعض کامل پیرووں میں اس قسم کے روحانی کمال پائے جائیں جو دوسرے مذہب میں ان کی نظیر نہ مل سکے ۔ سو میں زور سے کہتا ہوں کہ یہ خاصہ اسلام میں ہے ۔ اسلام نے ہزاروں لوگوں کو اس درجہ کی پاک زندگی تک پہنچایا ہے جس میں کہہ سکتے ہیں کہ گویا خدا کی روح ان کے اندر سکونت رکھتی ہے۔ قبولیت کی روشنی ان کے اندر ایسی پیدا ہو گئی ہے کہ گویا وہ خدا کی تجلیات کے مظہر ہیں ۔ یہ لوگ ہر ایک صدی میں ہو۔ صدی میں ہوتے رہے ہیں اور ا اور ان کی پاک زندگی بے ثبوت نہیں اور نرا اپنے منہ کا دعوی نہیں بلکہ خدا گواہی دیتا رہا ہے کہ ان کی پاک زندگی ہے۔ ی