مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 398 of 632

مسیحی انفاس — Page 398

۳۹۸ نقل ہے۔ ایک بیہودہ سختی کی طرف کھینچ رہی ہے۔ اور انجیل ایک بیہودہ عفو پر زور دے رہی ہے۔ اور قرآن شریف وقت شناشی کی تاکید کرتا ہے۔ پس جس طرح پستان میں آکر خون دودھ بن جاتا ہے اسی طرح توریت اور انجیل کے احکام قرآن میں آکر حکمت بن ودھ بن جاتا۔ گئے ہیں۔ اگر قرآن شریف نہ آیا ہوتا تو توریت اور انجیل اس اندھے تیر کی طرح ہوتیں کہ کبھی ایک آدھ دفعہ نشانہ پر لگ گیا اور سو دفعہ خطا گیا۔ غرض شریعت قصوں کے طور پر توریت سے آئی اور مثالوں کی طرح انجیل سے ظاہر ہوئی اور حکمت کے پیرایہ میں قرآن شریف سے حق اور حقیقت کے طالبوں کو ملی۔ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کے جوابات روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۵۵ تا ۳۵۹ قرآن شریف وہ کتاب ہے جو عین ضرورت کے وقت آئی اور ہر ایک تاریکی کو دور کیا اس وا اور ہر ایک فساد کی اصلاح کی اور توریت و انجیل کے غلط اور محترف بیانات کو رد کیا اور علاوہ او کیا قرآن شریف ، معجزات کے توحید باری پر عقلی دلائل قائم کیں۔ تو اب یہ لوگ ہمیں بتلاویں کہ قرآن توریت اور انجیل کی شریف نے کس بات میں توریت و انجیل کی نقل کی ؟ کیا قرآن شریف کی تعلیم وہی ہے جو توریت کی تعلیم ہے ؟ کیا توریت کی طرح قرآن شریف کا یہ حکم ہے کہ ضرور دانت کے بدلے دانت نکال دو یا آنکھ کے بدلے آنکھ نکال دو یا کیا قرآن شریف میں یہ حکم ہے کہ شراب پی لیا کرو ؟ یا یہ حکم ہے کہ بجز اپنی قوم کے دوسروں سے سود لے لیا کرو ؟ اور کیا عیسائیوں کے عقیدہ کی طرح قرآن شریف بھی حضرت عیسی کو خدا تعالیٰ کا بیٹا قرار دیتا ہے ؟ یا شراب پینے کا فتوی دیتا ہے یا یہ تعلیم دیتا ہے کہ بہر حال بدی کا مقابلہ نہ اگر قرآن شریف کرو؟ پس یہ کس قدر خباثت اور بدذاتی ہے کہ قرآن شریف کو توریت اور انجیل کی نقل توریت اور انجیل کی قرار دیا جاتا ہے۔ اگر قرآن شریف توریت وانجیل کی نقل ہے تو پھر اس قدر اسلام اور ان نقل ہے تو کیوں فرقوں میں اختلاف کیوں پیدا ہوئے ؟ اس صورت میں تو اسلام عین یہودیت اور یا عین اور عیسائیوں ہودیوں پر ہال میں عیسائیت ہونا چاہئے تھا نقل جو وئی ) اور اگر یہی حالت تھی کہ قرآن شریف توریت اور در اسلام کو نے اس قدر اسلام کو مغارت کی نظر سے انجیل کی تعلیم کی نقل ہے تو کیوں یہودیوں اور عیسائیوں نے اس قدر اسلام کو مغائرت کی دیکھا؟ نظر سے دیکھا اور اس قدر مقابلہ سے پیش آئے کہ خون کی ندیاں بہہ گئیں ؟ ہاں یہ سچ ہے کہ دنیا کے تمام مذاہب بعض باتوں اور بعض احکام میں مشترک ہوتے ہیں۔ مگر کیا ہم