مسیحی انفاس — Page 320
ہے۔ بگاڑا ہوا ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام کا نام ہے ۔ اور یہ قصہ کہ یہ را تولتا بدھ کا بیٹا تھا جسکو وہ شیر خوارگی کی حالت میں چھوڑ کر پر دیس میں چلا گیا تھا اور نیز اپنی بیوی کو سوتی ہوئی چھوڑ کر بغیر اسکی اطلاع اور ملاقات کے ہمیشہ کی جدائی کی نیت سے کسی اور ملک میں بھاگ گیا تھا۔ یہ قصہ بالکل بیہودہ اور لغو اور بدھ کی شان کے بر خلاف معلوم ہوتا ہے ایسا سخت دل اور ظالم طبع انسان میں نے اپنی عاجزہ عورت پر کچھ رحم نہ کیا اور اس کو سوتے ہوئے چھوڑ کر بغیر اس کے کہ اس کو کسی قسم کی تسلی دیتا تو ہیں چوروں کی طرح بھاگ گیا اور زوجیت کے حقوق کو قطعا فراموش کر دیا۔ نہ اُسے طلاق دی اور نہ اس سے اس قدر نا پیدا کنار سفر کی اجازت لی اور یکدفعہ غائب ہو جانے سے اسکے دل کو سخت صدمہ او مدمہ پہنچایا اور سخت ایذا دی اور پھر ایک خط بھی اسکی طرف روانہ نہ کیا یہانتک کہ بیٹا جوان ہو گیا اور نہ بیٹے کے ایام شیر خوارگی پر رحم کیا۔ ایسا شخص کبھی راستباز نہیں ہو سکتا ہیں نے اپنی اس اخلاقی تعلیم کا بھی کچھ پاس نہ کیا جس کو وہ اپنے شاگردوں کو سکھلاتا تھا۔ ہمارا کانشنس اسکو ایسا ہی قبول نہیں کر سکتا جیسا کہ انجیلوں کے اس قصہ کو کہ مسیح نے ایک مرتبہ ماں کے آنے اور اسکے بلانے کی کچھ بھی پرواہ نہیں کی تھی بلکہ ایسے الفاظ منہ بولایا تھا جس میں ماں کی بے عزتی تھی۔ پس اگر چہ بیوی اور ماں کی دل شکنی کرنے کے دونوں قصے بھی باہم ایک گونہ مشابہت رکھتے ہیں لیکن ہم ایسے قصے جو عام اخلاقی حالت سے بھی گرے ہوئے ہیں نہ سیح کی طرف منسوب کر سکتے ہیں اور نہ گوتم بدھ کی طرف ۔ اگر بدھ کو اپنی عورت سے محبت نہیں تھی تو کیا اس عاجر عورت اور شیر خوار بچہ پر رحم بھی نہیں تھا۔ یہ ایسی بداخلاقی ہے کہ صد ہا برس کے گذشتہ رفتہ قصے کو سن کر اب ہمیں درد پہنچ رہا ہے کہ کیوں اُس نے ایسا کیالہ انسان کی بدی کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ اپنی عورت کی ہمدردی سے لا پہ وا ہو بجز اس صورت کے کہ وہ عورت نیک چلن اور تابع حکم نہ رہے اور یا بیدین اور بدخواہ اور دشمن جان حکم ہو جائے۔ سو ہم ایسی گندی کار روائی بدھ کی طرف منسوب نہیں کر سکتے ہو خود اسکی ۳۲۰