مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 319 of 632

مسیحی انفاس — Page 319

۳۱۹ حالت میں بدھ مذہب کی پرانی کتابوں میں حضرت مسیح کا نام اور ذکر موجود ہے تو کیوں یہ محقق ایسی ٹیڑھی راہ اختیار کرتے ہیں کہ فلسطین میں بدھ مذہب کا نشان ڈھونڈتے ہیں اور کیوں وہ حضرت مسیح کے قدم مبارک کو نیپال اور تبت اور کشمیر کے پہاڑوں میں تلاش نہیں کرتے لیکن میں جانتا ہوں کہ اتنی بڑی سچائی کو ہزاروں تاریک پردوں میں سے پیدا کرنا ان کا کام نہیں تھا بلکہ یہ اس خدا کا کام تھا جس نے آسمان سے دیکھا کہ مخلوق پرستی حد سے زیادہ زمین پر پھیل گئی اور صلیب پرستی اور انسان کے ایک فرضی خون کی پرستش نے کروڑ ہا والوں کو سچے خدا سے دور کر دیا ۔ تب اس کی غیرت نے ان عقاید کے توڑنے کے لئے جو صلیب پر بنی تھے ایک کو اپنے بندوں میں سے دنیا میں صحیح ناصری کے نام پر بھیجا۔ اور وہ جیسا کہ قدیم سے وعدہ تھا مسیح موعود ہو کر ظاہر ہوا۔ تب کسر صلیب کا وقت آگیا لینے وہ وقت کہ صلیبی عقائد کی غلطی کو ایسی صفائی سے ظاہر کر دینا جیسا کہ ایک لکڑی کو دو ٹکڑے کر دیا جائے بسواب آسمان نے کسر صلیب کی ساری راہ کھولدی تا وہ شخص جو سچائی کا طالب ہے اب اُٹھے اور تلاش کرے مسیح کا جسم کے ساتھ آسمان پر جانا گو ایک غلطی تھی۔ تب بھی اسمیں ایک راز تھا اور وہ یہ کہ جوسی سوانح کی حقیقت گم ہو گئی تھی اور ایسی نابود ہوگئی تھی جیسا کہ قبر میں مٹی ایک جسم کو کھا لیتی ہے وہ حقیقت آسمان پر ایک وجود رکھتی تھی اور ایک مجسم انسان کی طرح آسمان میں موجود تھی اور ضرور تھا کہ آخری زمانہ میں وہ حقیقت پھر نازل ہو۔ ہ حقیقت میچہ ایک مجسم انسان کی طرح اب نازل ہوئی اور اس نے صلیب کو توڑا سوده وه اور منجملہ ان شہادتوں کے جو بدھ مذہب کی کتابوں سے ہم کو ملی" ہیں شہادت ہے جو کتاب بدھعد ایزم مصنفہ اولڈن برگ صفحہ ۱۹ میں درج ہے۔ اس ۱۹ام کتاب میں بحوالہ کتاب مہا و ا گا صفحه ۵۴ فصل نمبرا کے لکھا ہے کہ بدھ کا ایک جائین کا را تولتا نام بھی گزرا ہے کہ جو اس کا جان نثار شاگرد بلکہ بیٹا تھا۔ اب اس جگہ ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ یہ را تو کتا جو بدھ مذہب کی کتابوں میں آیا ہے یہ روح اللہ کے نام کا