مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 317 of 632

مسیحی انفاس — Page 317

۳۱۷ مسیحا کا ان کے ملک میں آنا اور اس طرح پر پیش گوئی کا پورا ہو جانا لکھا ہوا ہو۔ اور اگر یہ فرض بھی کر لیں کہ لکھا ہوا نہیں ہے تب بھی جبکہ بدھند نے خدائے تعالیٰ سے الہام پا کر اپنے شاگردوں کو یہ امید دی تھی کہ بگو امتیا اُن کے ملک میں آئیگا۔ اس بنا پر کوئی بدھ مت والا جو اس پیشگوئی پر اطلاع رکھتا ہو اس واقعہ سے انکار نہیں کر سکتا کہ دیگو امتیا جس کا دوسرا نام سیجا ہے اس ملک میں آیا تھا کیونکہ پیشگوئی کا باطل ہونا مذہب کو باطل کرتا ہے۔ اور ایسی پیشگوئی جسکی میعاد بھی مقرر تھی اور گوتم بدھ نے بار بار اس پیشگوئی کو اپنے مریدوں کے پاس بیان کیا تھا۔ اگر وہ اپنے وقت پر پوری نہ ہوتی تو بدھ کی جماعت گوتم بدھ کی سچائی کی نسبت شبہ میں پڑ جاتی اور کتابوں میں یہ بات لکھی جاتی کہ یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور اس پیش گوئی کے پورا ہونے پر ہمیں ایک اور دلیل یہ ملتی ہے کہ تبت میں ساتویں صدی عیسوی کی وہ کہتا ہیں دستیاب ہوئی ہیں جن میں شیخ کا لفظ موجود ہے یعنے حضرت عیسی علیہ السلام کا نام جن میں کا ہے عیسی کا نام لکھا ہے اور اس لفظ کو منی بیتی ہو کر کے ادا کیا ہے۔ اور وہ فہرست جس میں بھی رہتی ہو پایا گیا ہے اس کا مرتب کرنے والا ایک بدھ مذہب کا آدمی ہے۔ دیکھو کتاب اسے ریکارڈ آف دی پر منٹ ریلیجن مصنفہ آئی سنگ مترجم جی کا کو سو۔ اور جی ٹکا کو سو ایک جاپانی شخص ہو نے آئی سنگ کی کتاب کا ترجمہ کیا ہے۔ اور آئی سنگ ایک چینی سیاح ہو جسکی کتاب کے حاشیہ پر اور ضمیمہ میں سیا و سونے تحریر کیا ہے کہ ایک قدیم تالیف میں می شی ہو اسی کا نام درج ہو اور یہ تالیف قریبا ساتویں صدی کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر اس کا ترجمہ حال میں ہی کلیر ٹن پریس آکسفورڈ میں جی کا کو سو نام ایک جاپانی نے کیا ۔ غرض اس کتاب میں مشیح کا لفظ موجود ہے جس سے ہم یہ یقین سمجھ سکتے ہیں کہ یہ لفظ بدھ مذہب والوں کے پاس باہر سے نہیں آیا بلکہ بدھ کی پیشگوئی سے یہ لفظ کیا گیا ہے جس کو کبھی انہوں نے مشیح سے نہیں آیا بدھ پری ۔ کر کے لکھا اور کبھی بگو امتیا کرکے۔ اور مجملہ ان شہادتوں کے جو بدھ مذہب کی کتابوں سے ہم کو ملی ہیں ایک یہ ہے کہ