مسیحی انفاس — Page 316
تھی۔ اور پھر اس کتاب انگریزی پر مصنف نے ایک نوٹ لکھا ہے اس کی یہ عبارت ہے۔ کتاب پتا کسیان اور انتھا کتھا میں ایک اور بدھ کے نزول کی پیش گوئی بڑی واضح طور پر درج ہے جس کا ظہور گوتم یا ساتھی منی سے ایک ہزار سال بعد لکھا گیا ہے۔ گو تما بیان کرتا ہے کہ میں نچپیواں بدھ ہوں۔ اور بگو امتیا نے ابھی آنا ہے۔ یعنے میرے بعد اس ملک میں وہ آئے گا جس کا نام متیا ہوگا اور وہ سفید رنگ ہوگا۔ پھر آگے وہ انگریز مصنف لکھتا ہے کہ منتیا کے نام کو مسیحا سے حیرت انگیز مشابہت ہے۔ غرض اس پیش گوئی میں گوتم بدھد نے صافت طور پر اقرار کر دیا ہے کہ اس کے ملک میں اور اُس کی قوم میں اور اسپر ایمان لانے والوں میں سیما آنے والا ہے یہی وجہ تھی کہ اس کے مذہب کے لوگ ہمیشہ اس انتظار میں تھے کہ انکے ملک میں سیما آئے گا۔ اور بدھ نے اپنی پیش گوئی میں اُس آنے والے بدھ کا نام بگو امتیا اس لیئے رکھا کہ بگوا سنسکرت زبان میں سفید کو کہتے ہیں۔ اور حضرت مسیح چونکہ بلاد شام کے رہنے والے تھے اس لئے وہ بگو ا یعنے سفید رنگ تھے جس ملک میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی یعنے مگدھ کا ملک جہاں راجہ گریہا واقع تھا اس ملک کے لوگ سیاہ رنگ تھے اور گوتم بدھے خود سیاہ رنگ تھا۔ اس لئے بدھ نے آنے والے بدھہ کی قطعی علامت ظاہر کرنے کے لئے دو باتیں اپنے مریدوں کو بتلائی تھیں۔ ایک یہ کہ وہ بگوا ہو گا۔ دوسرے یہ کہ وہ متیا ہو گا یعنے سیر کرنے والا ہوگا اور باہر سے آئے گا۔ سو ہمیشہ وہ لوگ انہی علامتوں کے منتظر تھے جب تک کہ انہوں نے حضرت مسیح کو دیکھ لیا۔ یہ عقیدہ ضروری طور پر ہر ایک بدھ مذہب والے کا ہونا چاہئیے کہ بدھ سے پانسو برش بعد بگوا متیا ان کے ملک میں ظاہر ہوا تھا۔ سو اس عقیدہ کی تائید میں کچھ تعجب نہیں ہے کہ بدھ مذہب کی بعض کتابوں میں متیا یعنے ایک ہزار و پانچ ہزار سال والی بیماریں غلط ہیں ۔ من * ۳۱۶