مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 313 of 632

مسیحی انفاس — Page 313

! لله الله ہو کہ وے تم سے کریں ۔ یہ اس قدر انجلی تعلیم اور بدھ کی تعلیم میں مشابہت ہے کہ تفصیل کی ضرورت نہیں۔ سیکوڈ بدھ مذہب کی کتابوں سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ گوتم بدھ نے ایک اور آنے والے بدھ کی نسبت پیش گوئی کی تھی جس کا نام متیا بیان کیا تھا۔ یہ پیشگوئی بدھ کی کتاب لگا وتی سکتا میں ہے جس کا حوالہ کتاب اولڈن برگ صفحہ ۱۴۲ میں دیا گیا ہے۔ اس پیشگوئی کی عبارت یہ ہے " متبا لاکھوں مریدوں کا پیشوا ہو گا جیسا کہ میں اب سینکڑوں کا ہوں ۔ اس جگہ یاد رہے کہ جو لفظ عبرانی میں مشیت ہے وہی پالی زبان میں متیا کر کے بولا گیا ہے ۔ یہ تو ایک معمولی بات ہے کہ جب ایک زبان کا لفظ دوسری زبانوں میں آتا ہو تو اسمیں کچھ تغیر ہو جاتا ہے۔ چنانچہ انگریزی لفظ بھی دوسری زبان میں آکر تغیر پا جاتا ہے جیسا کہ نظیر کے طور پر یک مولر صاحب ایک فہرست میں جو کتاب آف دی ایسٹ جلد کے ساتھ شامل کی گئی ہے صفحہ ۳۱۸ میں لکھنا ہو کہ ٹی ہو اینچ انگریزی زبان کا جو تھر کی آواز رکھتا ہے فارسی اور عربی زبانوں میں ہو جاتا ہے لیئے پڑھنے میں ت یاس کی آواز دیتا ہے۔ سوان تغییرات پر نظر رکھ کر ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ مسیحا کا لفظ پالی زبان میں آکر متیا بن گیا۔ یعنی وہ آنیوالا متیا جسکی بدھ نے پیشگوئی کی تھی۔ وہ در حقیقت مسیح ہے اور کوئی نہیں۔ اس بات پر بڑا پختہ قرینہ یہ ہے کہ بدھ نے یہ پیشنگوئی بھی کی تھی کہ جس مذہب کی اس نے بنیاد رکھی ہر وہ زمین پر پانچ سو برس سے زیادہ قائم نہیں رہے گا۔ اور جس وقت ان تعلیموں اور اصولوں کا زوال ہو گا ۔ تب متیا اس ملک میں آکر دوبارہ ان اخلاقی تعلیموں کو دنیا میں قائم کرے گا۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح پانسو برس بعد بدھ کے ہوئے ہیں۔ اور جیسا کہ بدھ نے اپنے مذہب کے زوال کی مدت مقرر کی تھی۔ ایسا ہی اس وقت بدھ کا مذہب زوال کی حالت میں تھا۔ تب حضرت مسیح نے صلیب کے واقعہ سے نجات پاکر اس ملک کی طرف سفر کیا اور یا اور بدھ مذہب والے اُن کو شناخت کرکے بڑی تعظیم سے پیش آئے ۔