مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 312 of 632

مسیحی انفاس — Page 312

نہیں کر سکتا کہ اس کا نشو و نما اچھا ہوگا یا اس دانہ کی طرح ہو گا جو پتھریلی زمین میں ڈالا جائے اور خشک ہو جائے، دیکھو بعینہ یہ وہی مثال ہے جو انجیل میں ابتک موجود ہے۔ اور اور پھر پھر بدھ بکھا ایک اور مثال دیتا ہے کہ ایک ہرنوں کا گلہ جنگل میں خوشحال ہوتا ہے تب ایک آدمی آتا ہے اور فریب سے وہ راہ کھولتا ہے جو ان کی موت کا راہ ہے یعنے کوشش کرتا ہے کہ ایسی راہ چلیں جس سے آخر پھنس جائیں پھنس جائیں اور موت کا شکار ہو جائیں۔ اور دوسرا آدمی آتا ہے اور وہ اچھا راہ کھولتا ہے لینے وہ کھیت ہوتا ہے تا اُس میں سے کھائیں۔ وہ نہر لاتا ہے تا اس میں سے پیویں اور خوشحال ہو جائیں ایسا ہی آدمیوں کا حال ہے وہ خوشحالی میں ہوتے ہیں شیطان آتا ہے اور بدی کی آٹھ راہیں اُن پر کھول دیتا ہے تا ہلاک ہوں۔ تنب کامل انسان آتا ہے اور حق اور یقین اور سلامتی کی بھری ہوئی آٹھ راہیں اُن پر کھو دیتا ہے تا وہ بچ جائیں ۔ بدھ کی تعلیم میں یہ بھی ہو کہ پیر بھی ہو کہ پر ہیز گاری وہ محفوظ خزانہ ہے جس کو کوئی پھرا نہیں سکتا۔ وہ ایسا خزانہ ہے کہ موت کے بعد بھی انسان کے ساتھ جاتا ہے۔ وہ ایسا خزانہ ہے جس کے سرمایہ سے تمام علوم اور تمام کمال پیدا ہوتے ہیں۔ اب دیکھو کہ بعینہ یہ انجیل کی تعلیم ہے اور یہ باتیں بدھ مذہب کی ان پرانی کتابوں میں پائی جاتی ہیں جن کا زمانہ حضرت مسیح علیہ السّلام کے زمانہ سے کچھ زیادہ نہیں ہے بلکہ وہی زمانہ ہے۔ پھر اسی کتاب کے صفحہ ۱۳۵ میں ہے کہ بدھ کہتا ہے کہ میں ایسا ہوں کہ کوئی مجھ پر داغ نہیں لگا سکتا۔ یہ فقرہ بھی حضرت مسیح کے قول سے مشابہ ہے ۔ اور بدھ ازم کی کتاب کے صفحہ ۴۵ میں لکھا ہو کہ بدھ کی اخلاقی تعلیم اور عیسائیوں کی اخلاقی تعلیم میں بڑی بھاری مشابہت ہے “ میں اس کو مانت ہوں۔ میں یہ مانتا ہوں کہ وہ دونوں ہمیں بتاتی ہیں کہ دنیا سے محبت نہ کرو۔ روپیہ سے محبت نہ کرو۔ دشمنوں سے دشمنی مت کرو۔ بڑے اور ناپاک کام مت کرو۔ بدی پر نیکی کے ذریعہ سے غالب آؤ۔ اور دوسروں سے وہ سلوک کرو جو لوگ کرو جو تم چاہتے ۳۱۲