مسیحی انفاس — Page 310
یہاں تک کہ ہر ایک جانور بلکہ کیڑوں مکوڑوں کے خون کو بھی گناہ میں داخل کیا ہے۔ مبدھ کی تعلیم میں بڑی بات یہ بتلائی گئی ہے کہ تمام دنیا کی غمخواری اور ہمدردی کرو۔ وہ تمام انسانوں اور حیوانوں کی بہتری چاہو اور باہم اتفاق اور محبت پیدا کرو۔ اور یہی تعلیم انجیل کی ہے۔ اور پھر جیسا کہ حضرت مسیح نے مختلف ملکوں کی طرف اپنے شاگردوں کو روانہ کیا اور آپ بھی ایک ملک کی طرف سفر اختیار کیا ۔ یہ باتیں بدھ کے سوانح میں بھی پائی جاتی ہیں۔ چنانچہ بدھ ازم مصنفہ سر مونیر ولیم میں لکھا ہے کہ بُدھ نے اپنے شاگردوں کو دنیا میں تبلیغ کے لئے بھیجا اور اُن کو اس طرح پر خطاب کیا ۔ باہر جاؤ اور ہر طرف پھر نکلو۔ اور دنیا کی غمخواری اور دیوتاؤں اور آدمیوں کی بہتری کے لئے ایک ایک ہو کر مختلف صورتوں میں نکل جاؤ اور یہ منادی کرو کہ کامل پر ہیز گار بنو۔ پاک دل ہنو۔ برہم چاری یعنے تنہا اور مجرد رہنے کی خصلت اختیار کرو اور کہا کہ میں بھی اس مسئلہ کی منادی کے لئے جاتا ہوں اور بدھ بنارس کی طرف گیا اور اس طرف اُس نے بہت معجزات دکھائے ۔ اور اس نے ایک نہایت موثہ وعظ ایک پہاڑی پر کیا۔ جیسا کہ مسیح نے پہاڑی پر وعظ کیا تھا اور پھر اسی کتاب میں لکھا ہے کہ بدھ اکثر مثالوں میں وسخظ کیا کرتا تھا اور ظاہری چیزوں کو لے کر روحانی امور کو اُن میں پیش کیا کرتا تھا۔ اب غور کرنا چاہیے کہ یہ اخلاقی تعلیم اوریہ طریق وعظ یعنے مثالوں میں بیان کرنا به تمام طرز حضرت عیسی علیہ السلام کی ہے۔ جب ہم دوسرے ام کی ہم دوسرے قرائن کو اپنی نظر کے سامنے رکھ کر اس طرز تعلیم اور اخلاقی تعلیم کو دیکھتے ہیں تو معا ہمارے یہ سب باتیں حضرت سیے کی تعلیم کی نقل ہیں جبکہ وہ اس ملک ہندوستان میں تشریف لائے اور جا بجا انہوں نے وعظ بھی گئے تو اُن دنوں میں بدھ مذہب والوں نے اُن سے ملاقات کرکے اور اُن کو صاحب برکات پا کر اپنی کتابوں میں یہ باتیں درج کرلیں ۳۱۰