مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 309 of 632

مسیحی انفاس — Page 309

۳۰۹ حضرت مسیح کا بگوا لینے گورا رنگ ہونا جیساکہ گوتم بدھ نے پیشنگوئی میں بیان کیا تھا یہ سب علامتیں دیکھکر انکو بدھ قرار دے دیا۔ اور یہ بھی ممکن ہو کہ مسیح کے بعض واقعات اور خطابات تعلیمیں اُسی زمانہ میں گوتم بدھ کی طرف بھی عمدا یا ہوا منسوب کر دیئے گئے ہوں کیونکہ ہمیشہ ہندو تاریخ نویسی میں بہت کتے رہے ہیں۔ اور بدھ کے واقعات حضرت مسیح کے زمانہ تک قلمبند نہیں ہوئے تھے اسلئے بدھ کے عالموں کو بڑی گنجائش تھی کہ جوکچھ چاہیں بدھ کیطرف منسوب کر دیں سو یہ قرین قیاس ہے کہ جب انہوں نے حضرت مسیح کے واقعات اور اخلاقی تعلیم سے اطلاع پائی تو ان امور کو اپنی طرف سے اور کئی باتیں ملاکر بدھ کی طرف منسوب کر دیا ہو گا چنانچہ آگے چلکہ ہم اس بات کا ثبوت دینگے کہ یہ خلافی تعلیم کا حصہ جو بدھ مذہب کی کتابوں میں نیل کے مطابق پایا جاتا ہے اور یہ خطابات نور وغیرہ جوسیح کی طرح بدھ کی نسبت لکھے ہوئے ثابت ہوتے ہیں اور ایسا ہی ہی شیطان کا امتحان ۔ یہ سب امور اس وقت بدھ مذہب کی ٹپسکوں میں لکھے گئے تھے جبکہ حضرت مسیح اس ملک میں صلیبی تفرقہ کے بعد تشریف لائے تھے۔ کی اور پھر ایک اور مشابہت بدعہد کی حضرت مسیح سے پائی جاتی ہو کہ بدھ ازم میں لکھا ہے کہ بدھد ان ایام میں جو شیطان سے آزمایا گیا روزے رکھتا تھا اور اپنے چالیس رونے رکھے ۔ اور انجیل پڑھنے والے جانتے ہیں کہ حضرت مسیح نے بھی چالیس روزے رکھے تھے۔ اور جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے بدھ اور سیح کی اخلاقی تعلیم میں اس قدر مشابہت اور منار اور مناسبت ہے کہ ہر ایک ایسا شخص تعجب کی نظر سے دیکھے گا۔ جو دونوں تعلیموں پر اطلاع رکھتا ہوگا۔ مثلاً انجیلوں میں لکھا ہے کہ شہر کا مقابلہ نہ کرو۔ اور اپنے دشمنوں سے پیار کرو۔ اور غربت سے زندگی بسر کرو۔ اور تکبر اور جھوٹ اور لالچ سے پر ہیز کرو اور یہی تعلیم بدھد کی ہے۔ بلکہ اس میں اس سے زیادہ شد و مد ہے۔ به پور ٹوٹا ہم اس سے انکار نہیں کر سکتے کہ بدھ مذہب میں قدیم سے ایک بڑا حصہ اخلاقی تعلیم کا موجود ہے مگر اس انکار نہیں ساتھ اس کے ہم یہ بھی کہتے ہیں اس میں سے وہ حصہ جو بعینہ انجیل کی تعلیم اور انجیل کی مثالیں اور انجیل کی عبارتیں ہیں ؟ بلا شبہ اس وقت بدھ مذہب کی کتابوں میں ملایا گیا ہے جبکہ حضرت مسیح اس ملک میں پہنچے۔ منظر به حصه بلاش