مسیحی انفاس — Page 307
٣٠٧ , دل کو تزلزل نہ ہوا اور شیطان اپنے ارادوں میں نامراد رہا اور شیطان نے اور اور طریقے بھی اختیار کئے مگر بدھ کے استقلال کے سامنے اُس کی کچھ پیش نہ گئی۔ اور بدھ اعلیٰ سے اعلیٰ مراتب کو طے کرتا گیا اور آخر کار ایک لمبی رات کے بعد یعنی سخت , آزمائیشوں اور دیر پا امتحانوں کے پیچھے بدھ نے اپنے دشمن یعنے شیطان کو مغلوب کیا اور سچے علم کی روشنی اس پر کھل گئی اور صبح ہوتے ہی لینے امتحان سے فراغت پاتے ہی اس کو تمام باتوں کا علم ہو گیا اور میں صبح کو یہ بڑی جنگ ختم ہوئی وہ بدھ مذہب کی پیدائیش کا دن تھا۔ اُس وقت گوتم کی عمر پینتیس برس کی تھی اور اُس وقت اُس کو بدھ یعنے نور اور روشنی کا خطاب ملا۔ اور جس درخت کے درخت کے نیچے وہ اُس وقت بیٹھا ہوا تھا وہ درخت نور کے درخت کے نام سے مشہور ہو گیا۔ اب انجیل کھول کر دیکھو کہ یہ شیطان کا امتحان جس سے بدعہ آزمایا گیا کس قدر حضرت مسیح کے امتحان سے مشابہ ہے یہانتک کہ امتحان کے وقت میں جو حضرت مسیح کی عمر تھی قریباً وہی بدھ کی عمر تھی۔ اور جیسا کہ بدھ کی کتابوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شیطان در حقیقت انسان کی طرح مجسم ہو کر لوگوں کے دیکھتے ہوئے بدھ کے پاس نہیں آیا بلکہ وہ ایک خاص نظارہ تھا جو بدھ کی آنکھوں تک ہی محدود تھا اور شیطان کی گفت گو شیطانی الہام تھی عینی شیطان اپنے نظارہ کے ساتھ بدھ کے دل میں یہ الفقار بھی کرتا تھا کہ یہ طریق چھوڑ دینا چاہئے اور میرے حکم کی پیری کرنی چاہئیے۔ میں تجھے دنیا کی تمام دولتیں دید ونگا۔ اسی طرح عیسائی محقق مانتے ہیں کہ شیطان جو حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس آیا تھا وہ بھی اس طرح نہیں آیا تھا کہ یہودیوں کے سامنے انسان کی طرح ان کی گلیوں کوچوں سے ہو ہوکر کر اپنی مجسم حالت میں گذرتا ہوا حضرت مسیح کو آملا ہو۔ ہو۔ اور انسانوں کی طرح ایسی گفت گو کی ہو کہ حاضرین نے بھی سنی ہو بلکہ یہ ملاقات بھی ایک کشفی رنگ میں ملاقات تھی جو حضرت مسیح کی آنکھوں تک محدود تھی اور باتیں ملاقات تھی جو کی تک محدود او بھی الہامی رنگ میں تھیں۔ یعنے شیطان نے جیسا کہ اُس کا قدیم سے طریق ہے یا وہ