مسیحی انفاس — Page 304
بلکہ سیاحوں کا سردار رکھا گیا۔ چنانچہ ایک اسلامی فاضل امام عالم علامہ یعنی عارف بالله ابی بر محمد بن محمد بن الوليد الفهري الطرطوشی المالکی جو اپنی عظمت اور فضیلت میں شہرہ آفاق ہیں اپنی کتاب سراج الملوک میں جو مطبع خیر یہ مصر میں تالہ میں چھپی ہے یہ عبارت حضرت مسیح کے حق میں لکھتے ہیں جو صفحہ ہ میں درج ہو این عیسٰی روح الله وكلمته راس الزاهدین و امام السائحين ۔ بینے کہاں ہے جیسی روح اللہ و کلمتہ اللہ جو زاہدوں کا سردار اور سیاحوں کا امام تھا لینے وہ وفات پا گیا ہے اور ایسے ایسے انسان بھی دنیا میں نہ رہے دیکھو اس جگہ اس فاضل نے حضرت عیسی کو نہ صرف سیاح بلکہ سیاحوں کا امام لکھا ہے۔ ایسا ہی لسان العرب کے صفحہ ۳۱ ہم میں لکھا ہے ۔ قیل سمي عليسى بمسيح لأنه كان سائحاً في الارض لا يستقر یعنے عیسی کا نام سیح اس لئے رکھا گیا کہ وہ زمین میں سیر کرتا رہتا تھا اور کہیں اور کسی جگہ اس کو قرار نہ تھا ۔ یہی مضمون تاج العروس شرح قاموس میں بھی ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ مسیح وہ ہوتا ہے جو خیر اور برکت کے ساتھ مسح کیا گیا ہو یعنے اس کی فطرت کو خیر و برکت دی گئی ہو۔ یہاں تک کہ اُس کا چھونا بھی خیر و برکت کو پیدا کرتا ہو۔ اور یہ نام حضرت عیسی کو دیا گیا اور جس کو چاہتا ہے اللہ تعالیٰ یہ نام دیتا ہے۔ اور اسکے مقابل پر ایک وہ بھی مسیح ہے جو شر اور لعنت کے ساتھ مسح کیا گیا یعنے اس کی فطرت شمر اور لعنت پر پیدا کی گئی یہانتک کہ اس کا چھوٹا بھی شر اور لعنت اور ضلالت پیدا کرتا ہے اور یہ نام مسیح و جمال کو دیا گیا۔ اور نیز ہر ایک کو جو اس کا ہم طبع ہو اور یہ دونوں نام یعنے مسیح سیاحت کرنیوالا اورمسیح برکت دیا گیا یہ باہم ضد نہیں ہیں اور پہلے معنے دوسرے کو باطل نہیں کر سکتے۔ کیونکہ خدائے تعالیٰ کی یہ بھی عادت ہے کہ ایک نام کسی کو عطا کرتا ہے اور کئی معنے اس سے مراد ہوتے ہیں۔ اور سب اسپر صادق آتے ہیں۔ اب خلاصہ مطلب یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کا بلا ہوتا است در اسلامی تاریخ سے ثابت ہو کہ اگران تمام کتابوں میں سونقل کیا جائے تو ایک خیال کرتا ہوں کہ وہ مضمون اپنے طول کی وجہ سے ایک ضخیم کتاب ہوسکتی ہے۔ اس لئے اسی پر کفایت کی جاتی ہے۔ مسیح ہندوستان میں۔ روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۶۶ تا ۷۲ ام سم