مسیحی انفاس — Page 302
یہ ان ملکوں اور شہروں کا نقشہ ہے جن سے حضرت مسیح علیہ السلام کا کشمیر کی طرف آتے ہوئے گذر ہوا۔ اس سیر و سیاحت سے آپ کا یہ ارادہ تھا کہ تا اول ان بنی اسرائیل کو ملیں۔ جن کو شاہ سلمندر پکڑ کر ملک میدیا میں لے گیا تھا۔ اور یاد رہے کہ عیسائیوں کے شائع کردہ نقشہ میں مید یا بحیرہ خزہ کے جنوب میں دکھایا گیا ہے جہاں آجکل فارس کا ملک واقع ہے۔ اس سے سمجھ سکتے ہیں کہ کم سے کم میدیا اس ملک کا ایک حصہ تھا جسے آجکل فارس کہتے ہیں۔ اور فارس کی مشرقی صد افغانستان سے متصل ہے اور اس کے جنوب میں سمندر ہے۔ اور مغرب میں ملک روم ۔ بہر حال اگر روضۃ الصفا کی روایت پر اعتبار کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا نصیبین کی طرف سفر کرنا اس غرض سے تھا کہ تا فارس کی راہ سے افغانستان میں آویں اور ان گشتند و یہو دیوں کو جو آخر افغان کے نام سے مشہور ہوئے حق کی طرف دعوت کرئیں۔ افغان کا نام عبرانی معلوم ہوتا ہے۔ یہ لفظ ترکیبی ہے جس کے معنے بہادر ہیں معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی فتحیابیوں کے وقت یہ خطاب بہادر کا اپنے لئے مقرر کیا ۔ اب حاصل کلام یہ کہ حضرت عیسی علیہ السلام افغانستان سے ہوتے ہوئے پنجاب کی طرف آئے۔ اس ارادہ سے کہ پنجاب اور ہندوستان دیکھتے ہوئے پھر کشمیر کی طرف قدم اٹھا ہیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ افغانستان اور کشمیر کی حد فاصل چترال کا علاقہ اور کچھ حصہ پنجاب کا ہے۔ اگر افغانستان سے کشمیر میں پنجاب کے رستے سے آویں۔ تو قریباً اسی کوس لینے ۱۳۰ میل کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے اور چترال کی راہ سے سوکوس توریت میں بنی اسرائیل کے لئے وعدہ تھا کہ اگر تم آخری نبی پر ایمان لاؤ گے تو آخری زمانہ میں بہت سی - مصیبتوں کے بعد پھر حکومت اور بادشاہت تم کو لے گی۔ چنانچہ وہ وعدہ اس طور پر پورا ہوا کہ بنی اسر میں کی دس قوموں نے اسلام اختیار کر لیا۔ اسی وجہ سے افغانوں میں بڑے بڑے باشاہ ہوئے اور نیز کشمیریوں میں بھی۔ منک ۳۰۲