مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 300 of 632

مسیحی انفاس — Page 300

اور ایک عصا ہاتھ ہیں ہوتا تھا۔ اور ہمیشہ ملک یہ ملک اور شہر بشہر پھرتے تھے۔ اور جہاں رات پڑ جاتی وہیں رہ جاتے تھے ۔ جنگل کی سبزی کھاتے تھے اور جنگل کا پانی پیتے اور پیادہ سیر کرتے تھے۔ ایک وفعہ سیاحت کے زمانہ میں ان کے رفیقوں نے ان کیلئے ایک گھوڑا خریدا اور ایک دن سواری کی مگر چونکہ گھوڑے کے آب و دانہ اور چارے کا بند وبست نہ ہو سکا اس لئے اسکو واپس کر دیا۔ وہ اپنے ملک سے سفر کر کے نصیبین میں پہنچے جو ان کے وطن سے کئی سو کوس کے فاصلہ پر تھا۔ اور آپ کے ساتھ چند حواری بھی تھے۔ آپ نے حواریوں کو تبلیغ کے لئے شہر میں بھیجا۔ مگر اس شہر میں حضرت علیلی علیہ السلام اور انکی والدہ کی نسبت غلط اور خلاف واقعہ خبریں پہنچی ہوئی تھیں اسلئے اس شہر کے حاکم نے حواریوں کو گرفتار کر لیا۔ پھر حضرت عیسی علیہ السلام کو بلایا۔ آپ نے اعجازی برکت سے بعض بیماروں کو اچھا کیا۔ اور اور بھی کئی معجزات دکھلائے۔ اس لئے نصیبین کے ملک کا بادشاہ مع تمام لشکر اور باشندوں کے آپ پر ایمان لے آیا اور نزول مائدہ کا قصہ جو قرآن شریف میں ہے وہ واقعہ بھی ایام سیاحت کا ہے “ یہ خلاصہ بیان تاریخ روضۃ الصفا ہے اور اس جگہ مصنف کتاب نے بہت سے بیہودہ اور لغو اور دور از عقل منجزات بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی طرت نسو کیے ہیں جنکو ہم افسوس کے ساتھ چھوڑتے ہیں اور اپنی اس کتاب کو ان جھوٹ اور فضول اور مبالغہ آمیز باتوں سے پاک رکھ کر صرف اصل مطلب اس سے لیتے ہیں جیسے ہی نتیجہ نکلتا ہ کہ حضرت سی علیہ السلام سیر کرتے کرتے نصیبین تک پہنچ گئے تھے او نصیبین موصل اور شام کے درمیان ایک شہر ہے جسکو انگریزی نقشوں میں سی بس کےنام سے لکھا ہے جب ہم ملک شام کو اس کی طرف سفرکریں تو ہمار راہ می نہیں آئیگا اور بیت المقدس کو تقریب ہو اس کیطرف سفر تو ساری پین اور ساڑھے چار سو کوس ہو اور پھر میں تقریبا ۲ میل موصل ہے جو بیت المقدس سے پانسو میل کے فاصلہ پر ہے اورموصل سے فارس کی حد صرف سو میل رہ جاتی ہے اس حساب سے نصیبین فارس کی حد سو ڈیڑھ سومیل پر ہو اور فارس کی مشرقی مدافغانستان کے شہر ہرات تک ختم ہوتی ہو یعنے فارس کی طرف ہرات افغانستان کی مغربی حد پر واقع ہو اور فارس کی مغربی مدیر تقریباً نو سومیل کے فاصلہ پر ہے اور ہر ایسے درہ خیبر تک قریباً پانس میل کا فاصلہ ہے ۳۰۰