مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 280 of 632

مسیحی انفاس — Page 280

ساتھ ثابت کرتے ہیں کہ مسیح ہر گز آسمان پر نہیں گیا بلکہ صلیب سے نجات پاکر کسی ملک کی طرف چلا گیا اور وہیں مر گیا۔ چنانچہ سوپر نیچرل ریلیجن صفحہ ۵۲۲ میں اس بارے میں جو عبارت ہے اس کو ہم معہ ترجمہ ذیل میں لکھتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے :- پہلی تفسیر جو لائق محققین نے کی The first explanation adopted صلیب پر نہیں مرا بلکہ صلیب سے being taken alive and his body زندہ اتار کر اس کا جسم اس کے by some able critics is that Jesus ہے وہ یہ ہے کہ یسوع دراصل not really die on the Cross but being delivered to friends, he subsequently revived۔ In support Jesus is represented by Gospels as دوستوں کے حوالے کیا گیا اور وہ of this theory it is argued that آخر بیچ نکلا۔ اس عقیدہ کی تائید میں expiring after having been but یہ دلائل پیش کئے جاتے ہیں کہ three or six hours upon the Cross اناجیل کے بیان کے مطابق یسوع unprecedentedly rapid death۔ It is صلیب پر تین گھنٹے یا چھ گھنٹہ رہ کر فوت ہوا۔ لیکن صلیب پر ایسی جلدي موت کبھی پہلے واقع نہیں ہوئی تھی۔ یہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ صرف اس کے ہاتھوں پر میخیں ماری گئی تھیں۔ اور پاوں پر میخیں نہیں لگائی گئی تھیں چونکہ یہ عام قاعدہ نہ تھا کہ ہر ایک مصلوب کی ٹانگ توڑی جائے اس واسطے تین انجیل شهد which would have been but affirmed that only the hands and not the feet were nailed to the Cross۔ The crucifragian not usua- نویسوں نے تو اس کا ذکر ہی نہیں ly accompanying crucifixion is کیا۔ اور چوتھے نے بھی صرف اپنے dismissed as unknown to three طرز بیان کی تکمیل کی خاطر اس امر کا the fourth evangelist for dogame synoptrits and only inserted by بیان کیا اور جہاں ٹانگ توڑنے کا ذکر tic reasons and of course the lance disappears with the leg breaking۔ Thus the apparent نہیں ہے تو ساتھ ہی برچھی کا واقعہ ۲۸۰