مسیحی انفاس — Page 266
مانا گیا مگر یہ نادرست ہے کشفی طور پر تو ہمیشہ خدا کے برگزیدہ بندے ماص لوگوں کو نظر آجایا کرتے ہیں۔ اور کشفی طور میں خواب کی بھی شرط نہیں بلکہ بیداری میں ہی نظر آجاتے ہیں۔ چنانچہ میں خود اس میں صاحب تجربہ ہوں۔ میں نے کئی دفعہ کشفی طور پرحضرت سیح علیہ السلام کو دیکھا ہے۔ اور بعض نبیوں سے بھی میں نے عین بیداری میں ملاقات کی ہے۔ اور میں نے سید و مولی اپنے امام نبی محمد صلے صلی الہ علیہ وسلم کوبھی کئی دفعہ عین بیداری میں دیکھا ہے اور باتیں کی ہیں۔ اور ایسی صاف بیداری سے دیکھا ہے جسکے ساتھ خواب حافلت کا نام و نشان نہ تھا۔ اور میں نے بعض اور وفات یافتہ لوگوں سے بھی انکی قبر پر یا اور موقعہ پر عین بیداری میں ملاقات کی ہے اور ان سے باتیں کی ہیں ۔ میں خوب جانتا ہوں کہ اس طرح یکس پر عین بیداری میں گذشتہ لوگوں کی ملاقات ہو جاتی ہے اور نہ صرف ملاقات بلکہ گفتگو ہوتی ہے اور مصافحہ بھی ہوتا ہے اور اس بیداری اور روز مرہ کی بیداری میں لوازم تو اس میں کچھ بھی فرق نہیں ہوتا۔ دیکھا جاتا ہے کہ ہم اسی عالم میں ہیں اور یہی کان ہیں اور یہی آنکھیں ہیںاور یہی زبان ہے۔ مگر غور سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عالم اور ہے۔ دنیا اس قسم کی بیداری کو نہیں جانتی کیونکہ دنیا غفلت کی زندگی میں پڑی ہے۔ یہ بیداری آسمان سے ملتی ہے۔ یہ انکو دیکھاتی ہے جنگونئے سو اس ملتے ہیں۔ یہ ایک صحیح بات ہے اور واقعات حقہ میں سر ہے۔ پس اگر مسیح اسی طرح یروشلم کی بربادی کے وقت یوحنا کو نظر آیا تھا۔ تو گو وہ بیداری میں نظر آیا اور گو اس سے باتیں بھی کی ہوں اور مصافحہ کیا ہو۔ تاہم وہ واقعہ اس پیشگوئی سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتا۔ بلکہ یہ وہ امور ہیں جو ہمیشہ دنیا میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں اوراب بھی اگر ہم توجہ کریں تو خدا کے فضل سے مسیح کو یا اور کسی مقدس نبی کو عین بیداری میں دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن ایسی ملاقات سے متی باب آیت ۲۸ کی پیشگوئی ہرگز پوری نہیں ہو سکتی۔ سو اصل حقیقت یہ ہے کہ چونکہ مسیح جانتا تھا کہ میں صلیب سے بیچ کر دوسرے ملک میں لا جاؤنگا اور خدا نہ مجھے ہلاک کرے گا اور نہ دنیا سے اُٹھا ئیگا جب تک کہ میں یہودیوں کی بربادی اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لوں۔ اور جب تک کہ وہ بادشاہت جو برگزیدوں چلا ۲۶۶