مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 252 of 632

مسیحی انفاس — Page 252

** گھنٹہ ہوا تو ایک ایسی آندھی آئی جس سے ساری زمین پر اندھیرا چھا گیا اور وہ اندھیرا تین گھنٹے برابر رہا۔ دیکھو مرقس باب ۱۵ - آیت ۳۳ - یہ چھٹا گھنٹہ بارہ بجے کے بعد تھا یعنی وہ وقت جو شام کے قریب ہوتا ہے۔ اب یہودیوں کو اس شدت اندھیرے میں یہ فکر پڑی کہ مبادا سبت کی رات آجائے اور وہ سبت کے مجرم ہو کر تاوان کے لائق ٹھہریں۔ اس لئے اُنہوں نے جلدی سے مسیح کو اور اُسکے ساتھ کے دو چوسوں کو بھی صلیب پر سے اتار لیا۔ اور اس کے ساتھ ایک اور آسمانی سبب یہ پیدا ہوا کہ جب پلا طوس کچہری کی مسند پر بیٹھا تھا اسکی جو رونے اُسے کہلا بھیجا کہ تو اس راستباز سے کچھ کام نہ لکھ دیعنے اس کے قتل کرنے کے لئے سعی نہ کر) کیونکہ میں نے آج رات خواب میں اسکے سبب سے بہت تکلیف پائی۔ دیکھومتی بابا آیت ۱۹۔ سو یہ فرشتہ جو نواب میں پلاطس کی جورو کو دکھایا گیا۔ اس سے ہم اور ہر ایک منفعت یقینی طور پر یہ سمجھے گا کہ خد سمجھے گا کہ خدا کا ہرگز یہ انشاء نہ تھا کہ مسیح صلیب پر وفات پاوے۔ جیسے کہ دنیا پیدا ہوئی آجتک یہ کبھی نہوا کہ جس شخص کے بچانے کے لئے خدا ئیتعالی رویا میں کسی کو ترغیب دے کہ ایسا کرنا چاہئیے تو وہ بات خطا جائے مثلا کھیل مستی میں لکھا ہے کہ خداوند کے ایک فرشتہ نے یوسف کو خواب میں دکھائی دیے کے کہا اُٹھ اس لڑکے اور اس کی ماں کو ساتھ لے کر مصر کو بھاگ جا اور وہاں جب تک میں تجھے خبر نہ دوں ٹھہرارہ کیونکہ ہیرو دوس اس لڑکے کو ڈھونڈ یا کہ مارڈالے“ دیکھو انجیل متی باب آیت ۱۳- آب کیا یہ کہ سکتے ہیں کہ یسوع کا مصر میں پہنچہ مارا جانا ممکن تھا۔ اسی طرح خدائے تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک تدبیر تھی کہ پلاطوس کی بورو کو مسیح کے لئے خواب آئی۔ اور ممکن نہ تھا کہ یہ تدبیر خطا جاتی۔ اور میس طرح مصر کے قصہ میں مسیح کے بارے جانے کا اندیشہ ایک ایسا خیال ہے جو خدائے تعالیٰ کے ایک مقرر شدہ وعدہ کے برخلاف ہے۔ اسی طرح اس جگہ بھی یہ خلاف قیاسی بات ہے کہ خدائے تعالیٰ کا فرشتہ پلا طوس کی جورو کو نظر آوے اور وہ اس ہدایت کی طرف اشارہ کرے کہ اگر مسیح صلیب پر فوت ہو گیا۔ تو یہ تمہارے لئے اچھا نہ ہوگا تو پھر اس غرض سے فرشتہ کا ظاہر ہونا ہے سو د جاوے اور ۲۵۲