مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 632

مسیحی انفاس — Page 244

۲۴۴ ۲۰۹ لئے اور اس کے اس فرزند کے لئے جس پر چھری چلائی گئی سولی کی دہشت سے کچھ کم درجہ پر تھا ؟ اور یعقوب کے خوف کا وہ نظارہ جب کہ اس کو سنایا گیا کہ تیرا پیارا فرزند کہ تیرا یوسف بھیڑیے کا لقمہ ہو گیا اور اس کے آگے یوسف کا مصنوعی طور پر خون آلود کرتہ ڈال دیا گیا اور پھر مدت در از تک یعقوب کو ایک مسلسل غم میں ڈالا گیا۔ کیا یہ نظارہ بھی کچھ کم تھا ؟ اور جب یوسف کو مشکیں باندھ کر کوئیں میں پھینکا گیا تو کیا یہ درد ناک نظارہ اس نظارہ سے کچھ کم تھا جب مسیح کو صلیب پر چڑہایا گیا ؟ اور پھر کیا نبی آخر الزمان کی مصیبت کا وہ نظارہ کہ جب غار ثور کاننگی تلواروں کے ساتھ محاصرہ کیا گیا کہ اس غار میں وہ شخص ہے جو نبوت کا دعوی کرتا ہے۔ اس کو پکڑو اور قتل کرو۔ تو کیا یہ نظارہ اپنی رعب ناک کیفیت میں صلیبی نظارہ سے کچھ کم تھا ؟ اور کیا ابھی اسی زمانہ کا یہ نظارہ کہ جب ڈاکٹر مارٹن کلارک نے مثیل مسیح پر جو یہ عاجز ہے اقدام قتل کا ایک جھوٹاد علوی کیا۔ اور تینوں قوموں ہندؤوں اور مسلمانوں اور عیسائیوں میں سے سر بر آوردہ علماء کوشش کرتے تھے کہ یہ سزا پادے ۔ تو کیا یہ نظارہ مسیح کے صلیبی نظارہ سے کچھ مشابہت نہیں رکھتا تھا ؟ پس سچ بات یہ ہے کہ ہر ایک جو خدا کے پیار کا دعوی کرتا ہے ایک وقت میں ایک حالت موت کے مشابہ ضرور اس پر آ جاتی ہے۔ سو اسی سنت اللہ کے موافق مسیح پر بھی وہ حالت آگئی۔ مگر جتنی نظیریں ہم نے پیش کی ہیں وہ گواہی دے رہی ہیں کہ ان تمام نبیوں میں سے ایسے امتحان کے وقت کوئی بھی نبی ہلاک نہیں ہوا۔ آخر قریب موت پہنچ کر جب کہ ان کے روحوں سے ایلی ایلی لما سبقتني کا نعرہ نکلا۔ تب یک مرتبه خدا کے فضل نے ان کو بچالیا۔ پس جس طرح ابراہیم آگ سے اور یوسف کوئیں سے اور ابراہیم کا ایک پیارا بیٹا ذبح سے اور اسماعیل پیاس کی موت سے بچ گیا۔ اسی طرح صحیح بھی صلیب سے بچ گیا۔ وہ موت کا حملہ ہلاک کرنے کے لئے نہیں تھا بلکہ ایک نشان دکھلانے کے لئے تھا۔ ۔ تریاق القلوب - روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۵۲۱ ۵۲۳،۵۲۱ اب تک عیسائیوں اور یہودیوں کا یہی حال ہے کہ کوئی ان میں سے قسم کھا کر اور سے عیسائیوں اور یہود ہوں اپنے نفس کے لئے بلا اور عذاب کا وعدہ دے کر نہیں کہہ سکتا کہ مجھے در حقیقت یہی کا حضرت مسیح کے قتل سے متعلق عدم یقین یقین ہے کہ سچ مچ مسیح قتل کیا گیا۔ یہ شکوک اسی وقت پیدا ہو گئے تھے اور پولس نے اپنی