مسیحی انفاس — Page 242
دی گئی۔ اور چونکہ صلیب پر بھوک پیاس اور دھوپ وغیرہ کی شدت سے کئی دن رہ کر رہ مصلوب انسان مر جایا کرتا تھا وہ موقع مسیح کو پیش نہ آیا کیونکہ یہ کسی طرح نہیں ہو سکتا تھا کہ جمعہ کے دن غروب ہونے سے پہلے اسے صلیب پر سے نہ اتار لیا جاتا۔ کیونکہ یہودیوں کی شریعت کی رو سے یہ سخت گناہ تھا۔ کہ کوئی شخص سبت یا سبت سے پہلے رات صلیب پر رہے۔ مسیح چونکہ جمعہ کی آخری گھڑی صلیب پر چڑہایا گیا تھا۔ اس لئے آندھی وغیرہ کے پیش آجانے سے فی الفور اتار لیا گیا۔ پھر دو چور جو صبح کے ساتھ صلیب پر لٹکائے گئے تھے ان کی ہڈیاں تو توڑ دی گئی تھیں مگر مسیح کی ہڈیاں نہیں توڑی گئی تھیں۔ پھر صحیح کی لاش ایک ایسے آدمی کے سپرد کر دی گئی جو مسیح کا شاگرد تھا اور اصل تو یہ ہے کہ خود پیلاطوس اور اس کی بیوی بھی اس کی مرید تھی ۔ چنانچہ پیلاطوس کو عیسائی شہیدوں میں لکھا ہے اور اس کی بیوی کو ولیہ قرار دیا ہے۔ اور ان سب سے بڑھ کر مرہم مینسٹی کا نسخہ ہے جس کو مسلمان یہودی، رومی اور عیسائی اور مجوسی طبیبوں نے بال اتفاق لکھا ہے کہ یہ مسیح کے زخموں کے لئے تیار ہوا تھا اور اس کا نام مرہم عیسی، مرہم حواریین اور مرہم رسل اور مرہم شینی وغیرہ بھی رکھا۔ کم از کم ہزار کتاب میں یہ نسخہ موجود ہے اور یہ کوئی عیسائی ثابت نہیں کر سکتا۔ کہ صلیبی زخموں کے سوا اور بھی کبھی کوئی زخم تھے۔ اور اس وقت حواری بھی موجود تھے ۔ اب بتاؤ کہ کیا یہ تمام اسباب اگر ایک جا جمع کئے جاویں۔ تو صاف شہادت نہیں دیتے کہ مسیح صلیب پر زندہ بچ کر اتر آیا یہودیوں کے جو فرقے متفرق ہو کر افغانستان یا کشمیر میں آگئے تھے وہ ان کی تلاش میں ادھر چلے آئے۔ اور پھر کشمیر ہی میں انہوں نے وفات پائی۔ اور یہ بات انگریز محققوں نے بھی مان لی ہے کہ کشمیری در اصل بنی اسرائیل ہیں۔ چنانچہ بر نیر نے اپنے سفر نامہ میں یہی لکھا ہے ۔ اب جب کہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ صلیب پر نہیں مرے بلکہ زندہ اتر آئے تو پھر کفارہ کا کیا باقی رہا۔ تھا۔ پھر سب سے عجیب تریہ بات ہے کہ تر یہ بات ہے کہ عیسائی جس عورت کی شہادت پر مسیح کو آسمان پر چڑہاتے ہیں وہ خود ایک اچھے چال چلن کی عورت نہ تھی۔ ملفوظات ۔ جلد ۳ صفحه ۱۰۷ ۱۰۸ نیز دیکھیں۔ راز حقیقت۔ روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۱۵۸ تا ۱۶۱ - حاشیه ۲۴۲