مسیحی انفاس — Page 220
۲۲۰ ۱۹۳ وعدوں کے مطابق اس بات میں کچھ بھی شک نہیں کہ گناہ اس وقت پیدا ہوتا ہے کہ جب اول قانون فرمانبرداری کا شائع ہو جائے کیونکہ نافرمانی فرمانبرداری کے بعد ہوا کرتی ہے۔ پھر جبکہ یہ صورت ہے ہے تو صاف ظاہر ہے کہ جب قانون نازل ہو گا گا اور اور خدائے خدائے تعالی تعالیٰ کی کی کتاب کتاب اپنے جب قانون نازل ہو گاتو وعدوں کے مطابق عملدرامد کریگی یعنی اس طرح کے احکام ہوں گے کہ فلاں شخص کے خدا تعالی کی کتاب فلاں نیک کام کرے تو اس کا اجر یہ ہو گا ۔ یا بد کام کرے تو اس کی سزا یہ ہوگی تو اس عمل اور آمد کرنے کی صورت میں کفارہ کا دخل کسی طور سے جائز نہیں جب کہ وعدہ و عید کے مطابق فیصلہ اس صورت میں ایک ہوتا ہے تو اس صورت میں ایک بیٹا نہیں اگر ہزار بیٹے بھی صلیب پر کھینچے جاویں تب بھی لیت رکھنے جائیں تو وعدہ میں تختلف نہیں ہو سکتا اور کسی کتاب میں نہیں لکھا کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدوں کو توڑتا بیٹا نہیں ہزار بیٹے بھی بھی وعدہ میں تخلف نہیں ہو گا۔ ہے اور جب کہ تمام مدار وعدوں پر ہے کسی حق پر نہیں ہے تو وعدوں کے مطابق فیصلہ ہونا چاہئے۔ آپ کا یہ بار بار فرمانا کہ حقوق کے مطابق فیصلہ ہوتا ہے مجھے تعجب دلاتا دا ہے۔ آپ نہیں سوچتے کہ خدا تعالیٰ کے مقابل کسی کا حق نہیں ہے۔ اگر حق ہوتا تو پھر خدا تعالیٰ پر صدیا اعتراض ہر طرف سے قائم ہوتے جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں کہ کیڑے مکوڑے اور ہر قسم کے حیوانات جو خدائے تعالیٰ نے پیدا کئے کیا یہ مواخذہ کر سکتے ہیں کہ ہمیں ایسا کیوں بنایا۔ اسی طرح خدا تعالی ابھی قبل از تنزیل کتاب یعنی کتاب بھیجنے سے پہلے کسی پر مواخذہ نہیں کرتا۔ اور یوں تو خدا تعالیٰ کے حقوق اس کے بندوں پر اس قدر ہیں کہ جس قدر اس کی نعمتیں ہیں یعنی شمار میں نہیں آسکتے۔ لیکن گناہ صرف وہی کہلائیں گے جو کتاب نازل ہونے کے بعد نافرمانیوں کی مد میں آجائیں گے۔ اور جب کہ یہ صورت ہے تو اس سے ثابت ہوا کہ خدائے تعالی در اصل عام طور پر اپنے حقوق کا مطالبہ نہیں کرتا کیونکہ وہ لاتعداد لا تحصی ہیں بلکہ نافرمانیوں کا مواخذہ کرتا ہے ۔ اور نافرمانیاں جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں وعدہ اور وعید سے وابستہ ہیں یعنی اگر نیکی کرے تو اس کو ضرور نیک جزا ملے گی۔ اور اگر بدی کرے تو اس کو بد ثمرہ ملے گا۔ اور ساتھ اس کے یہ بھی وعدہ ہے کہ ایمان اور توبہ پر نجات ملے گی تو پھر اس صورت میں کفارہ کا کیا تعلق رہا۔ کیا کسی کے مصلوب ہونے سے اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں سے دس دستکش ہو سکتا ہے۔ صاحب یہ تو قانونی سزائیں ہیں جو انسان کو ملیں گی۔ حقوق کی سزائیں نہیں جیسا کہ آپ کا بھی یہی مذہب ہے۔ پھر جب کہ یہ حالت ہے تو یہ جزائیں اور سزائیں صرف وعد و وعید کی رعایت سے ہو سکتے سکتے ہیں۔ اور کوئی صورت نہیں ں ہے جو اس کے بر خلاف