مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 219 of 632

مسیحی انفاس — Page 219

۲۱۹ ملفوظات ۔ جلدی صفحہ ۱۸۰، ۱۸۱ خدا کا کوئی فعل اس کی قدیم عادت سے مخالف نہیں اور عادت کثرت اور کلیت کو ۱۹۰ چاہتی ہے۔ پس اگر در حقیقت بیٹے کو بھیجنا خدا کی عادت میں داخل ہے تو خدا کے بہت بہت سے بیٹے چاہئیں سے بیٹے چاہئیں تا عادت کا مفہوم جو کثرت کو چاہتا ہے ثابت ہو اور تا بعض بیٹے جنات کے لئے مصلوب ہوں اور بعض انسانوں کے لئے اور بعض ان مخلوقات کے لئے جو کے لئے مصلوب ہوں اور بعض انسانوں کے جلتے دوسرے اجرام میں آباد ہیں۔ کتاب البرية - روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۵۹ ، ۶۰ ۱۹۱ اگر یہ اعتقاد کیا جاوے کہ خدا خود ہی آکر دنیا کو نجات دیا کرتا ہے یا اس کے بیٹے ہی نجات کے لئے ہر زمانہ آتے ہیں تو پھر دور لازم آئے گا۔ اور ہر زمانہ میں نیا خدا یا اس کے بیٹوں کا آنا ماننا پڑے میں نئے خدا اور اس گا۔ جو صریح خلاف بات ہے۔ کے بیٹوں کا آنا ماننا ملفوظات ۔ جلد ۳ صفحہ ۱۳۲ پڑے گا بند ۱۹۲ ایک بار کی صلیب کا عیسائیوں کے اصول کے موافق مسیح کے خون پر ایک بار ایمان لا کر اگر گناہ ہو جاوے تو پھر صلیب مسیح کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔ کونکہ صحیح دو مرتبہ صلیب پر نہیں چڑ ہے گا۔ تو کیا یہ بات صاف نہیں ہے کہ ان دونوں کے بات صاف ہے کہ ان دونوں کے لئے بخشے جانے اور نجات کی راہ : ہے کیونکہ صدور گناہ تو رک نہیں سکتا اگر خدا تعالی کی کسی نعمت کا شکر نہ کرے تو یہ بھی کوئی فائدہ نہیں گناہ ہے اور غفلت کرے تو یہ بھی گناہ ہے۔ اور ان گناہوں پر بھی جونوں میں جانا پڑے گا یا مسیح کو دوبارہ صلیب نہیں دیا جائے گا۔ اس لئے کلی طور پر مایوس ہونا پڑے گا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ تعلیم نہیں دی۔ ان کے لئے ہر وقت توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ جب انسان اس کی طرف رجوع کرے اور اپنے پچھلے گناہوں کا اقرار کر کے اس سے خواستگار معافی ہو اور آئندہ کے لئے نیکیوں کا عزم کرے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف کر دیتا ہے۔ ملفوظات ۔ جلدی صفحہ ۱۸۳