مسیحی انفاس — Page 205
۲۰۵ پیدا کرتا ہے۔ بجائے خود گناہ کو پیدا کرتا ہے اور اس کو گناہ سے نجات پانے کے ساتھ کوئی تعلق ہی یہ علاج ملہ خود گناہ نہیں ہے۔ انہوں نے گناہ کے دور کرنے کا علاج گناہ تجویز کیا ہے جو کسی حالت اور نے گناہ دور صورت میں مناسب نہیں۔ یہ لوگ اپنے نادان دوست ہیں۔ اور ان کی مثال اس بندر کی سی ہے جس نے اپنے آقا کا خون کر دیا تھا۔ اپنے بچاؤ کے لئے اور گناہوں سے نجات پانے کے لئے ایک ایسا گناہ تجویز کیا جو کسی صورت میں بخشانہ جاوے یعنی شرک کیا اور عاجز انسان کو خدا بنالیا۔ مسلمانوں کے لئے کس قدر خوشی کا مقام ہے کہ ان کا خدا ایسا خدا خالتا کے لئے کا ہے کہ ان کا خدا ایسا خدا نہیں جس پر کوئی اعتراض یا حملہ ہو سکے ۔ وہ اس کی طاقتوں اور قدرتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کی صفات پر یقین لاتے ہیں۔ مگر جنہوں نے انسان کو خدا بنایا یا جنہوں نے اس کی قدرتوں سے انکار کر دیا ، ان کے لئے خدا کا عدم و وجود برابر ہے۔ ملفوظات ۔ جلد ۸ صفحه ۲۵۵ ۲۵۶ نیز دیکھیں۔ لیکچر لدھیانہ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۸۸ ، ۲۸۹ ا عیسائی صاحبوں کی تعلیم کو اس جگہ مفصل لکھنے کی ضرورت نہیں۔ خون مسیح اور کفارہ کا ایک ایسا مسئلہ ہے۔ جس نے ان کو نہ صرف تمام مجاہدات اور ریاضیات سے فارغ کر دیا ہے بلکہ اکثر ولوں کو گناہوں کے ارتکاب پر ایک دلیری بھی پیدا ہو گئی ہے۔ کیونکہ ہے جب کہ عیسائی صاحبوں کے ہاتھ میں قطعی طور پر گناہوں کے بخشے جانے کا ایک نسخہ کفارہ گناہ پر دلیر کرتا ہے۔ یعنی خونِ مسیح تو صاف ظاہر ہے کہ اس نسخہ نے قوم میں کیا کیا نتائج پیدا کئے ہوں پیدا کئے ہوں ہے ( نظار) گے۔ اور کس قدر نفس امارہ کو گناہ کرنے کے لئے ایک ؟ لئے ایک جرات پر آمادہ کر دیا ہو گا۔ اس نسخہ نے جس قدر یورپ اور امریکہ کی عملی پاکیزگی کو نقصان پہنچایا ہے میں خیال کرتا ہوں کہ اس کے بیان کرنے کی مجھے ضرورت نہیں۔ بالخصوص جب سے اس نسخہ کی دوسری جزو شراب بھی اس کے ساتھ ملحق ہو گئی ہے۔ تب سے تو یہ نسخہ ایک خطرناک اور بھڑکنے والا مادہ بن گیا ہے۔ اس کی تائید میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے۔ ہر ایک سچے عیسائی کا یہ فرض ہے کہ وہ بھی شراب پیوے خون مسیح کی دلیری اور شراب کا جوش تقوی کی بیخ کنی میں کامیاب ہو گیا ہے ۔ ہم اندازہ نہیں لگا سکتے کہ آیا کفارہ ہوگیا ۔ کے مسئلہ نے یہ خرابیاں زیادہ پیدا کی ہیں یا شراب نے۔ اگر اسلام کی طرح پردہ کی رسم اور اپنے مرشد کی پیروی کرے ۔