مسیحی انفاس — Page 204
۲۰۴ روک نہ سکا۔ اگر کفارہ میں گناہوں سے بچانے کی کوئی تاثیر ہوتی تو یورپ کے مرد و عورت گناہوں سے ضرور بچے رہتے۔ ہر قسم قسم کرتے کے کے گناہ یورپ کے خواص و عوام میں پائے جاتے ہیں۔ اگر کسی کو شک ہو تو وہ لندن کے پارکوں اور پیرس کے ہوٹلوں میں جا ہو تو وہ کر دیکھ لے کہ کیا ہوتا ہے۔ زنا کی کثرت خوف دلاتی ہے کہ کہیں زنا کے جواز کا ہی فتوی بڑھتا نہ ہو جاوے۔ گو عملی طور پر تو نظر آتا ہے۔ شراب کا استعمال اس قدر کثرت سے بہ جاتا ہے کہ کچھ روز ہوئے ایک عورت نے کسی ہوٹل میں پینے کو پانی مانگا تو انہوں نے کہا کہ پانی تو برتن دھونے یا نہانے وغیرہ کے کام آتا ہے۔ پینے کے لئے تو شراب ہی ہوتی ہے۔ پس اب غور کر کے دیکھو کہ گناہ کے سیلاب کو روکنے کے واسطے خونِ مسیح کاتو بند کافی نہیں ہوا۔ بلکہ اپنی رو میں اس نے پہلے بندوں کو بھی توڑ دیا۔ اور پوری آزادی اور اباحت کے قریب پہنچا دیا۔ ملفوظات جلد ۳ صفحه ۱ تا ۳ نیز دیکھیں۔ ملفوظات ۔ جلد ۱ صفحہ ۱۷۶ ١٧٠ کفارہ کے ذریعہ ہوئی ایک اور ضروری بات ہے جو میں کہنی چاہتا ہوں اور وہ کفارہ کے متعلق ہے۔ کفارہ کی اصل غرض تو یہی بتائی جاتی ہے کہ نجات حاصل ہو۔ اور نجات دوسرے الفاظ میں گناہ کی زندگی اور اس کی موت موت سے بچ جانے کا نام ہے۔ مگر میں آپ ہی سے پوچھتا ہوں کہ خدا سے گناہوں سے نجات کیا کے لئے انصاف کر کے بتاؤ کہ گناہ کو کسی کی خود کشی سے فلسفیانہ طور پر کیا تعلق ہے۔ اگر مسیح نے نجات کا مفہوم یہی سمجھا اور گناہوں سے بچنے کا یہی طریق انہیں سوجھا تو پھر نعوذ باللہ ہم ایسے آدمی کو تو رسول بھی نہیں مان سکتے۔ کیونکہ اس سے گناہ مرک نہیں سکتے۔ آپ کو یورپ کے حالات اور لنڈن اور پیرس کے واقعات اچھی طرح معلوم ہوں گے۔ بتاؤ کونسا پہلو گناہ کا ہے جو نہیں ہوتا ۔ سب سے بڑھ کر زنا تو رات میں لکھا ہے۔ مگر دیکھو کہ یہ سیلاب کس زور سے ان قوموں میں آیا ہے۔ جن کا یقین ہے کہ مسیح ہمارے لئے مرا۔ ملفوظات ۔ جلد ۳ صفحه ۱۰۹ ، ۱۱۰ 161 غرض عیسائیوں نے گناہ کے دور کرنے کا جو علاج تجویز کیا ہے وہ ایسا علاج ہے جو