مسیحی انفاس — Page 168
۱۶۸ ۱۳۸ بد اخلاق اور بد سرشت اور بد اندیش اور بد کردار ہیں۔ ایسا ہی بمقابلہ ان کے بعض دوسرے لوگ فطر تا دل کے غریب نیک خلق نیک چلن نیک کردار ہیں۔ اس قانون قدرت سے نہ ہندو باہر ہیں نہ پارسی نہ یہودی نہ سکھ نہ یہ نہ سکھ نہ بدھ مذہب والے یہاں تک کہ چوہڑے اور چمار بھی اسی قانون میں داخل ہیں۔ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کے جوابات روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۳۶ تا ۳۳۹ یہ بات کہ اس لعنتی موت پر مسیح خود راضی ہو گیا تھا اس دلیل سے رد ہو جاتی ہے کہ مسیح نے باغ میں رو رو کر دعا کی کہ وہ پیالہ اس سے مل جائے۔ عالی کہ وہ پیالہ اس سے مل جائے۔ اور پھر صلیب پر کھینچنے کے حضرت مسیح لعنتی ے کے راضی ہوتے وقت چیخ مار کر کہا کہ ایلی ایلی لما سبقتنی یعنی اے میرے خدا اے میرے خدا چیخ مار کر کہ تو نے مجھے خدا کیوں چھوڑ دیا۔ اگر وہ اس صلیبی موت پر راضی تھا تو اس نے کیوں دعائیں کیں اور یہ خیال کہ کہ مسیح کی صلیبی صلیبی موت موت خدا خد تعالی کی طرف سے مخلوق پر ایک رحمت تھی اور خدا نے خوش ہو کر ایسا کام کیا تھا تا دنیا مسیح کے خون سے نجات پاوے ۔ تو یہ وہم اس دلیل سے رد ہو جاتا ہے کہ اگر در حقیقت اس و دن رحمت الهی جوش الہی جوش میں آئی تھی تو کیوں اس دا دن سخت زلزلہ آیا یہاں تک کہ ہیکل کا پردہ پھٹ گیا اور کیوں سخت آندھی آئی اور سورج تاریک ہو گیا۔ اس سے تو صریح معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ صحیح کو صلیب دینے پر سخت ار خوری روی این ناراض تھا جس کی وجہ سے چالیس برس تک خدانے یہودیوں کا پچھانہ چھوڑا۔ اور وہ یہ خدا کی تھی و او پر خلال طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ر ہے۔ اول سخت طاعون سے ہلاک ہوئے اور آخر کیوں ہوا؟ طیطوس رومی کے ہاتھ سے ہزاروں یہودی مارے گئے۔ حقیقة الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۶۰ حاشیه یسوع کا مصلوب ہونا اگر اپنی مرضی سے ہوتا تو خود کشی اور حرام کی موت تھی اور خلاف مرضی کی حالت میں کفارہ نہیں ہو سکتا اور یسوع اس لئے اپنے تئیں نیک نہیں لکھ مصلوب ہونا مرضی سکا کہ لوگ جانتے تھے کہ یہ شخص شرابی کبابی ہے اور یہ خراب چال چلن نہ خدائی کے بعد سے تھا یا خلاف مرضی؟ بلکہ ابتدا ہی سے ایسا معلوم ہوتا ہے چنانچہ خدائی کا دعوی شراب خواری کا ایک بد نتیجه معیار المذاہب روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۸۵ حاشیه ہے۔