مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 167 of 632

مسیحی انفاس — Page 167

۱۶۷ صاحب زادے کو خدا کا بیٹامان کر لعنتی قربانی کا بیٹسمہ پایا۔ اور پھر قادیان میں آکر نئے سرے مسلمان ہوئے اور اقرار کیا کہ میں نے بیٹسمہ لینے میں جلدی کی تھی اور نماز پڑھتے رہے اور بارہا میرے روبروئے اقرار کیا کہ کفارہ کی لغویت کی حقیقت بخوبی میرے پر کھل گئی ہے اور میں اس کو باطل جانتا ہوں اور پھر قادیان سے واپس جا کر پادریوں کے دام میں پھنس گئے اور عیسائیت کو اختیار کیا۔ اب میاں سراج الدین کو سوچنا چاہئے کہ جب اول وہ بیمہ پاکر عیسائی دین سے پھر گئے تھے اور قول اور فعل سے انہوں نے اس کے بر خلاف کیا تو عیسائی اصول کے رو سے یہ ایک بڑا گناہ تھا جو دوسری دفعہ ان سے وقوع میں دوسرا گناہ قابل معافی آیا ۔ پس پولوس کے قول کے مطابق یہ گناہ ان کا بخشا نہیں جائے گا۔ کیونکہ اس کے نہیں۔ لئے دوسری صلیب کی ضرورت ہے۔ ور اگر یہ کہو کہ ولوس نے غلطی کھائی ہے یا جھوٹ بولا ہے اور اصل بات یہی ہے کہ اگر پولوس نے غلطی لعنتی قربانی پر ایمان لانے کے بعد کوئی گناہ گناہ نہیں رہتا۔ چوری کروز نا کرو خون ناحق کھائی ہوں تو ایسا گناہ۔ والا ہے۔ کرو۔ جھوٹ بولو۔ امانت میں خیانت کرو۔ غرض کچھ کرو کسی گناہ کا مواخذہ نہیں تو مذہب ناپاکی پھیلانے ایسانہ ہب ایک نا پا کی پھیلانے والا مذہب ہو گا۔ اور وقت کی گورنمنٹ کو مناسب ہو گا کہ ایسے عقائد کے پابندوں کی ضمانتیں لیوے ۔ اور اگر پھر اس خیال کو دوبارہ پیش کرو کہ لعنتی قربانی پر ایمان لانے والا کچی پاکیزگی حاصل کرتا ہے اور گناہ سے پاک ہو جاتا ہے۔ تو ہم اس کا جواب پہلے دے چکے ہیں۔ کہ یہ بات ہر گز صحیح نہیں ہے اور ہم ابھی داؤد نبی کا اور حواریوں کے گناہ اور حضرات پادری صاحبوں کے گناہ لکھ چکے ہیں۔ اور اس بات کو تمام اہل تجربہ جانتے ہیں۔ کہ یورپ ان دنوں بدکاریوں میں اول درجہ پر ہے۔ الہ ہے۔ اگر فرض کے طور پر کسی کی پاک زندگی کی نظیر دی جائے تو اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ حقیقت میں اس کی زندگی پاک ہے۔ بہتیرے بدمعاش حرام خور زانی دیوث شراب خوار خدا کے منکر بظاہر پاک زندگی دکھلا سکتے ہیں اور اندر سے ان قبروں کی طرح ہوتے ہیں جن میں بجز متعفن مردہ اور اس کی ہڈیوں کے اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔ ماسوا اس کے یہ خیال کرنا بھی بیجا ہے کہ کسی قوم کے سارے کے سارے اپنی فطرت کی رو سے نیک یا سب کے سب فطر تا بد معاش ہیں۔ بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ خدا کے قانون رتا قدرت نے یہ دعوی کرنے کا حق ہر ایک قوم کو بخشا ہے کہ جیسے ان میں بعض لوگ فطرتا