مسیحی انفاس — Page 152
۱۵۲ سکا۔ آدم سے لے کر اخیر تک تمام مقدس نبیوں کو پاپی اور بد کار نہ بنالیں ۔ (۲) دوسری صورت اس قابل رحم بیٹے کے مصلوب ہونے کی یہ ہے کہ اس کے سولی ملنے کی یہ علت غائی قرار دی جائے ۔ کہ اس کی سولی پر ایمان لانے والے ہر یک قسم یہ کفارہ کسی کو نفسانی کے گناہ اور بد کاریوں سے بچ جائیں گے اور ان کے نفسانی جذبات ظہور میں نہ آنے پائیں جنایات سے بچا نہ گیے۔ مگر افسوس کہ جیسا کہ پہلی صورت خلاف تہذیب اور بدیہی البطلان ثابت ہوئی تھی ایسے ہی یہ صورت بھی کھلے کھلے طور پر باطل ہی ثابت ہوئی ہے۔ کیونکہ اگر فرض کیا جائے۔ کہ یسوع کا کفارہ ماننے میں ایک ایسی خاصیت ہے کہ اس پر سچا ایمان لانے والا فرشته سیرت بن جاتا ہے اور پھر بعد ازاں اس کے دل میں گناہ کا خیال ہی نہیں آتا۔ تو تمام گذشتہ نبیوں کی نسبت کہنا پڑے گا کہ وہ یسوع کی سولی اور کفارہ پر ایمان نہیں لائے تھے۔ کیونکہ انہوں نے تو بقول عیسائیاں بدکاریوں میں حد ہی کر دی۔ پہنچا۔ تو اس سے صاف طور پر ثابت ہو گیا کہ یہ جھوٹا کفارہ کسی کو نفسانی جذبات سے بچا نہیں میچ کی ذات کو بھی کنارہ سکتا۔ اور خود مسیح کو بھی بچانہ سکا۔ دیکھو وہ کیسے شیطان کے پیچھے پیچھے چلا گیا حالانکہ اس ہے کوئی فائدہ نہ کو جانا مناسب نہ تھا اور غالبا یہی حرکت تھی جس کی وجہ سے وہ ایسا نادم ہوا کہ جب ایک شخص نے نیک کہا تو اس نے روکا کہ مجھے کیوں نیک کہتا ہے۔ حقیقت میں ایسا شخص جو شیطان کے پیچھے پیچھے چلا گیا۔ کیونکر جرات کر سکتا ہے کہ اپنے تئیں نیک کہے ۔ یہ بات یقینی ہے کہ یسوع نے اپنے خیال سے اور بعض اور باتوں کی وجہ سے بھی اپنے تئیں نیک کہلانے سے کنارہ کشی ظاہر کی مگر افسوس کہ اب عیسائیوں نے نہ صرف نیک قرار دیا بلکہ خدا بنا کر رکھا ہے غرض کفارہ مسیح کی ذات کو بھی کچھ کفارہ مسیح کی ذات کو بھی کچھ فائدہ نہ پہنچا سکا۔ اور تکبر اور خود بینی جو تمام بدیوں کی جڑ ہے۔ وہ تو یسوع صاحب کے ہی حصہ میں آئی ہوئی معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس نے آپ خدا بن کر سب نبیوں کہ رہزن اور بٹ مار اور ناپاک حالت کے آدمی قرار دیا ہے حالانکہ یہ اقرار بھی اس کی کلام سے نکلتا ہے کہ وہ خود بھی نیک نہیں ہے مگر افسوس کہ تکبر کا سیلاب اس کی تمام حالت کو برباد کر گیا ہے۔ کوئی بھلا آدمی گذشتہ بزرگوں کی مذمت نہیں کرتا۔ لیکن اس نے پاک نبیوں کو رہزنوں اور بٹ ماروں کے نام سے موسوم کیا ہے۔ اس کی زبان پر دوسروں کے لئے ہر وقت بے ایمان حرام کار کا لفظ چڑھا ہوا ہے۔ کسی کی نسبت ادب کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ کیوں نہ ہو خدا کا فرزند جو حواریوں پر کیا اڑ ہوا ہوا۔ اور پھر جب دیکھتے ہیں کہ یسوع کے کفارہ نے حواریوں کے دلوں پر کیا اثر کیا۔ کیا وہ