مسیحی انفاس — Page 132
۱۳۲ یہودی نہ تثلیت کے گے۔ Σ ** والا اور دو شکل پر پر آدم ہو۔ دوسرا دوسرا یسوع ۔ تیسرا کبوتری اور تینوں میں سے ایک بچہ والا لاولد ۔ کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ خدا شیطان کے پیچھے پیچھے چلے اور شیطان اس سے سجدہ چاہے اور اس کو دنیا طمع دے ۔ کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ وہ شخص جس کی ہڈیوں میں خدا گھسا ہوا تھا۔ ساری رات رو رو کر دعا کر تا رہا اور پھر بھی استجابت دعا سے محروم اور بے نصیب ہی رہا۔ کیا یہ بات تعجب میں نہیں ڈالتی کہ خدائی کے ثبوت کے لئے یہود کی کتابوں کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ یہود اس عقیدہ پر ہزار لعنت بھیجتے ہیں اور سخت انکاری ہیں اور کوئی ان میں ایسا فرقہ نہیں جو تثلیث کا قائل ہو۔ اگر یہود کو موسیٰ سے آخری نبیوں تک یہی تعلیم دی جاتی تو کیونکر ممکن تھا کہ وہ لاکھوں آدمی جو بہت سے فرقوں میں منقسم تھے اس تعلیم کو سب کے سب بھول جاتے ۔ کو سب کے سب بھول جاتے ۔ کیا یہ بات سوچنے کے لائق نہیں کہ عیسائیوں میں قدیم سے ایک فرقہ موحد بھی ہے جو قرآن شریف کے وقت میں بھی موجود تھا۔ اور وہ فرقہ بڑے زور سے اس بات کا ثبوت دیتا ہے۔ کہ تثلیث کا گندہ مسئلہ صرف تیسری صدی کے بعد نکلا ہے اور اب بھی اس فرقہ کے لاکھوں انسان یورپ اور امریکہ میں موجود ہیں۔ اور ہزار ہا کتابیں ان کی شائع ہو رہی ہیں۔ انجام آتھم ۔ روحانی خزائن جلد ا ا صفحه ۴۱، ۴۲ تثلیث اور یسوع کی خدائی کی بابت اگر یہودیوں سے پوچھا جاوے اور ان کی کتابوں کو سٹولا جاوے تو صاف جواب ہے کہ وہ کبھی تخلیث کے قائل نہ تھے۔ اور نہ کبھی انہوں نے قائل ہیں نہ جسمانی خدا کسی جسمانی خدا کی بابت اپنی کتاب میں پڑھا تھا جو کسی عورت کے پیٹ سے عام بچوں کی طرح حیض کے خون سے پرورش پاکر نو مہینے کے بعد پیدا ہونے والا ہو۔ اور انسانوں کے سارے دکھ خسرہ چیچک وغیرہ جو انسانوں کو ہوتے ہیں اٹھا کر آخر یہودیوں کے ہاتھ سے ماریں کھاتا ہوا اصلیب پر چڑھایا جاوے گا۔ اور پھر ملعون ہو کر تین دن ہاویہ میں رہے گا۔ یا باپ بیٹا روح القدس کے مجموعہ اور مرکب خدا ہی کا ذکر ان کی کتابوں میں کہیں ہوتا۔ اگر ہے تو ہم عیسائیوں سے ایک عرصہ سے سوال کرتے رہے ہیں ۔ وہ کے عیسائی صاحبان کبوتروں کو شوق سے کھاتے ہیں۔ حالانکہ کبوتران کا دیوتا ہے۔ ان ہندو اچھے رہے کہ اپنے دیوتا بیل کے اپنے دیوتا بیل کو نہیں کھاتے۔ سے