مسیحی انفاس — Page 131
۱۳۱ عیسائیوں میں تثلیث کا مسئلہ تیسری صدی کے بعد ایجاد ہوا ہے۔ جیسا کہ ڈریپر بھی اپنی کتاب میں بڑے بڑے علماء کے حوالہ سے لکھتا ہے موجد اس مسئلہ کا بشپ اتھا ناسی آن الگزنڈر ائن تھا جو صدی سوم کے بعد پیدا ہوا ہے۔ جب اس نے یہ مسئلہ شائع کرنا نڈرائن تھا چاہا تو اسی وقت بشپ ایری آس اس کا منکر کھڑا ہو گیا۔ اور یہاں تک اس مباحثہ میں عوام اور خواص کا مجمع ہوا کہ روم کے بادشاہ تک خبر پہنچ گئی۔ اتفاقاً اس کو مباحثات سے دلچسپی تھی۔ اس نے چاہا کہ اس اختلاف کو اپنے حضور میں ہی فریقین کے علماء سے رفع کر اوے۔ چنانچہ اس کے اجلاس میں بڑی سرگرمی سے یہ مباحثات ہوئے اور نہایت لطف کے ساتھ کونسل کی کرسیاں بچھیں اور مناظرہ کرنے والے دو سو پچاس نامی پادری تھے۔ آخر موحدین کا فرقہ جو یسوع کو محض انسان اور رسول جانتا تھا۔ غالب آیا۔ اسی دن بادشاہ نے یونی شیرین کا مذہب اختیار کیا اور چھ بادشاہ اس کے بعد موحد رہے۔ چنانچہ جس قیصر کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خط لکھا تھا۔ جس کا ذکر صحیح بخاری میں پہلے صفحہ میں ہی موجود ہے۔ وہ بھی موحد ہی تھا۔ اس نے قرآن کے اس مضمون پر اطلاع پا کر کہ صحیح صرف انسان ہے تصدیق کی۔ جیسا کہ نجاشی نے بھی جو کر عیسائی بادشاہ تھا۔ قسم کھا کر کہا کہ یسوع کارتبہ اس سے ذرہ زیادہ نہیں جو قرآن نے اس کہ یسوع کار یا اس سے زرہ زیادہ نہیں : کی نسبت لکھا ہے۔ مگر نجاشی اس کے بعد کھلا کھلا مسلمان ہو گیا۔ انجام انجام آتھم ۔ روحانی خزائن جلدا ا صفحه ۳۹، ۴۰ - حاشیہ ہم نے بار بار سمجھایا کہ عیسی پرستی بت پرستی اور رام پرستی سے کم نہیں اور مریم کا بیٹا ۱۱۴ توحید کی فتح۔ ۱۱۵ کشیلیا کے بیٹے سے کچھ زیادت نہیں رکھتا۔ مگر کیا کبھی آپ لوگوں نے توجہ کی۔ یوں تو کو آپ لوگ تمام دنیا کے مذہبوں پر حملہ کر رہے ہیں۔ مگر کبھی اپنے اس مثلث خدا کی عیسی پرستی ، بت نسبت بھی کبھی غور کی۔ کبھی یہ خیال آیا کہ وہ جو تمام عظمتوں کا مالک ہے اس پر انسان پرستی اور رام کا کی طرح کیونکر دکھ کی مار پڑ گئی۔ کبھی یہ ؟ پڑ گئی۔ کبھی یہ بھی سوچا کہ خالق نے اپنی مخلوق سے کیونکر مار کھا سے کم نہیں۔ ا تھوکیں لی ۔ کیا یہ سمجھ آسکتا ہے کہ بندے ناچیز اپنے خدا کو کوڑے ماریں اس کے منہ پر اس کو پکڑیں۔ اس کو سولی دیں اور وہ مقابلہ سے عاجز رہ جائے۔ بلکہ خدا کہلا کر پھر اس پر موت بھی آجائے۔ کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ تین مجسم خدا ہوں ایک وہ مجسم جس کی رام پرستی