مسیحی انفاس — Page 106
١٠٦ عمانی ؟ ۹۱ عیسائی لوگ اس لئے بندہ پرست ہیں کہ عیسی مسیح جو ایک عاجز بندہ ہے ان کی نظر میں وہی خدا ہے اور یہ قول ان کا سراسر فضول اور نفاق اور دروغ گوئی پر مبنی ہے جو وہ کہتے ہیں کہ ہم علی عیسی کو تو ایک انسان سمجھتے ہیں مگر اس بات کے ہم قائل ہیں کہ اس کے ساتھ اقنوم ابن کا تعلق تھا کیونکہ مسیح نے انجیل میں کہیں یہ دعوی نہیں کیا کہ اقنوم ابن سے میرا ا ان اللہ یا قوم ایک خاص تعلق ہے اور وہی اقنوم ابن اللہ کہلاتا ہے نہ میں۔ بلکہ انجیل یہ بتلاتی ہے کہ خود مسیح ابن اللہ کہلاتا تھا اور جب مسیح کو زندہ خدا کی قسم دے کر سردار کاہن نے پوچھا کہ کیا تو خدا کا بیٹا ہے تو اس نے یہ جواب نہ دیا کہ میں تو ابن اللہ نہیں بلکہ میں تو وہی انسان ہوں جس کو تمیں برس سے دیکھتے چلے آئے ہو ہاں ابن اللہ وہ اقنوم ثانی ہے جس نے اب مجھ سے قریباً دو سال سے تعلق پکڑ لیا ہے بلکہ اس نے سردار کاہن کو کہا کہ ہاں وہی ہے جو تو کہتا ہے پس اگر ابن اللہ کے معنی اس جگہ وہی ہیں جو عیسائی مراد لیتے ہیں تو ضرور ثابت ہوتا ہے کہ مسیح نے خدائی کا دعوی کیا پھر کیونکر کہتے ہیں کہ ہم مسیح کو انسان سمجھتے ہیں۔ کیا انسان صرف جسم اور ہڈی کا نام ہے۔ افسوس کہ اس زمانہ کے جاہل عیسائی کہتے ہیں کہ قرآن نے ہمارے عقیدہ کو نہیں سمجھا حالانکہ وہ خود اس بات کے قائل ہیں کہ مسیح نے خود اپنے منہ سے ابن اللہ ہونے کا دعوی کیا ہے ظاہر ہے کہ سردار کاہن کا یہ کہنا کہ کیا تو خدا کا بیٹا ہے اس کا مدعا یہی تھا کہ تو جو انسان ہے پھر کیونکر انسان ہو کر خدا کا بیٹا کہلاتا ہے کیونکہ سردار کاہن جانتا تھا کہ یہ ایک انسان اور ہماری قوم میں سے یوسف نجار کی بیوی کا لڑکا ہے لہذا ضرور تھا کہ مسیح سردار کاہن کو وہ جواب دیتا جو اس کے سوال اور دلی منشاء کے مطابق ہوتا کیونکہ نبی کی شان سے بعید ہے کہ سوال دیگر اور جواب دیگر ہو۔ پس عیسائیوں کے مصنوعی اصول کے موافق یہ جواب چاہئے تھا کہ جیسا کہ تم نے گمان کیا ہے یہ غلط ہے اور میں اپنی انسانیت کی رو سے ہر گز ابن اللہ نہیں کہلا تا بلکہ ابن اللہ تو اقنوم دوم ہے جس کا تمہاری کتابوں کے فلاں فلاں مقام میں ذکر ہے لیکن مسیح نے ایسا جواب نہ دیا بلکہ ایک دوسرے مقام میں یہ کہا ہے کہ تمہارے بزرگ نے بزرگ تو خدا کہلائے ہیں۔ پس ثابت ہے کہ دوسرے نبیوں کی طرح صحیح نے بھی اپنے انسانی روح کے لحاظ سے ابن اللہ کہلایا اور صحت اطلاق لفظ کے لئے گذشتہ نبیوں کا حوالہ دیا۔ پھر بعد اس کے عیسائیوں نے اپنی غلط فہمی سے صحیح کو در حقیقت خدا کا بیٹا سمجھ لیا۔ اور دوسروں کو بیٹا ہونے سے باہر رکھائیں اس واقعہ صحیحہ کی قرآن مجید نے گواہی دی اور اگر کوئی یہ کہے کہ