مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 105 of 632

مسیحی انفاس — Page 105

۱۰۵ ہے۔ اور ابناء کا دوبارہ ذکر بھی نہیں کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہودیوں کی کتابوں میں خدا کے پیاروں کو بیٹا کر کے بھی پکارتے تھے۔ حقیقة الوحی - روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۶۵ تا ۶۷ ۹۰ اللہ تعالیٰ نے جو ہم کو مخاطب کیا ہے کہ انت منی بمنزلة اولادي ۔ اس جگہ یہ تو نہیں کہا کہ تو میری اولاد ہے بلکہ یہ کہا ہے کہ منزلہ اولاد کے ہے یعنی اولاد کی طرح ہے۔ اور دراصل یہ عیسائیوں کی اس بات کا جواب ہے جو وہ حضرت عیسیٰ کو حقیقی طور پر ابن اللہ مانتے ہیں۔ حالانکہ خدا تعالی کی کوئی اولاد نہیں اور خدا تعالیٰ نے مدادی ادارے کی مراد یہودیوں کے اس قول کا عام طور پر کوئی رو نہیں کیا جو کہتے تھے کہ ہے ۔ نحن ابناءا الله و احباؤه - بلکہ یہ ظاہر کیا ہے کہ تم ان ناموں کے مستحق نہیں ہو۔ دراصل یہ ایک محاورہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے برگزیدوں کے حق میں اکرام کے طور پر ایسے الفاظ بولتا ہے۔ جیسا کہ حدیثوں میں ہے کہ میں اس کی آنکھ ہو جاتا ہوں اور میں اس کے ہاتھ ہو جاتا ہوں اور جیسا کہ حدیثوں میں ہے کہ اے بندے میں پیاسا تھا تو نے مجھے پانی نہ دیا۔ اور میں بھو کا تھا تو نے مجھے روٹی نہ دی۔ ایسا ہی توریت میں بھی لکھا ہے کہ یعقوب خدا کا فرزند بلکہ نخست زادہ ہے۔ سو یہ سب استعارے ہیں جو عام طور پر خدا تعالیٰ کی عام کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔ اور احادیث میں ہے۔ اور خدا تو خدا تعالیٰ نے یہ الفاظ میرے حق میں اسی واسطے استعمال کئے ہیں تا عیسائیوں کارد ہو۔ کیونکہ باوجود ان لفظوں کے میں کبھی ایسا دعوی نہیں کرتا کہ نعوذ باللہ میں خدا کا بیٹا ہوں بلکہ ہم ایسا دعوی کرنا کفر سمجھتے ہیں۔ اور ایسے الفاظ جو انبیاء کے حق میں خدا تعالیٰ نے بولے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ اور سب سے بڑا عزت کا خطاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا۔ قل يعبادی جس کے معنے ہیں کہ اے میرے بندو۔ اب ظاہر ہے کہ وہ لوگ خدا تعالی کے بندے تھے نہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بندے ۔ اس فقرہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایسے الفاظ کا اطلاق استعارہ کے رنگ میں کہاں تک وسیع ہے۔ ملفوظات ۔ جلد ۹ صفحه ۴۸۲، ۴۸۳