مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 85 of 632

مسیحی انفاس — Page 85

۸۵ ہے۔ لہذا اس کے مقاصد اور مدعا کسی طرح مخفی نہیں رہ سکتے۔ برخلاف پیش گوئیوں کے کہ وہ اکثر گوشہ گمنامی میں پڑی رہتی ہیں۔ پس اس محکم اصول کے رو سے یہودی لوگ عیسائیوں کے مقابل پر اس بحث میں بالکل سچے ہیں کیونکہ یہودیوں نے تعلیم کو پیش گوئیوں پر مقدم رکھا اور پیش گوئیوں کے وہ معنے کئے جو تعلیم کے منی لئے جو تعلیم کے مخالف نہ ہوں ۔ تمر عیسائیوں نے پیش گوئیوں کے وہ معنے کئے ہیں جو تعلیم کے سراسر مخالف ہیں۔ ماسوا اس کے یہودیوں کے معنے اس طرح سے بھی مستند ہیں کہ وہ انبیاء علیہم السلام سے سنتے چلے آئے ہیں اور حضرت یحییٰ نبی کا ایک فرقہ جو بلاد شام میں اب تک پایا جاتا ہے وہ بھی عیسائیوں کے اس عقیدہ کے مخالف ہے اور یہودیوں کا موید ہے اور یہ اور دلیل اس بات پر ہے کہ عیسائی غلطی پر ہیں۔ غرض منقول کے رو سے عیسائیوں کا عقیدہ نہایت بو دا ہے بلکہ قابل شرم ہے۔ رہا دوسرا ذریعہ شناخت حق کا جو عقل ہے سو عقل تو عیسائی عقیدہ کو دور سے دھکے دیتی ہے۔ عیسائی اس بات کو مانتے ہیں کہ جس جگہ تثلیث کی منادی نہیں پہنچی ایسے لوگوں سے صرف قرآن اور توریت کی توحید کے رو سے مواخذہ ہو گا تسلیت کا مواخذہ نہیں ہوگا۔ پس وہ اس بیان سے صاف گواہی دیتے ہیں کہ تثلیث کا عقیدہ عقل کے موافق نہیں وہ اس بیان کیونکہ اگر عقل کے موافق ہوتا تو جیسا کہ بے خبر لوگوں سے توحید کا مواخذہ ضروری ہے ایسا ہی تثلیت کا مواخذہ بھی ضروری ٹھہرتا۔ اب ان دونوں کے بعد تیسرا ذریعہ شناخت حق کا آسمانی نشان ہیں یعنی یہ یعنی یہ کہ بچے مذہب کے لئے ضروری ہے کہ اس کا صرف قصوں اور کہانیوں پر سہارا نہ ہو بلکہ ہر ایک زمانہ میں اس کی شناخت کے لئے آسمانی دروازے کھلے رہیں اور آسمانی نشان ظاہر ہوتے رہیں تا معلوم ہو کہ اس زندہ خدا سے اس کا تعلق ہے کہ جو ہمیشہ سچائی کی حمایت کرتا ہے۔ سو افسوس کہ عیسائی مذہب میں یہ علامت بھی پائی نہیں جاتی بلکہ بیان کیا جاتا ہے کہ سلسلہ نشانوں اور معجزات کا آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گیا ہے اور بجائے اس کے کہ کوئی موجودہ آسمانی نشان دکھلایا جائے ان باتوں کو پیش کرتے ہیں کہ جو اس زمانہ کی نظر میں صرف قصے اور کہانیاں ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر یسوع نے کسی زمانہ میں اپنی خدائی ثابت کرنے کے لئے چند ماہی گیروں کو نشان دکھلائے تھے تو اب اس زمانہ کے تعلیم یافتہ لوگوں کو ان ان پڑھوں کی نسبت نشان دیکھنے کی بہت ضرورت ہے کیونکہ ان بیچاروں کو کسی طرح عاجز انسان کی خدائی سمجھ