مسیحی انفاس

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 84 of 632

مسیحی انفاس — Page 84

فراموش کر دیتے اور کوئی ایک آدھ فرقہ بھی اس تعلیم پر قائم نہ رہتا۔ کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ ایک ایسا عظیم الشان گروہ جس میں ہرا ت ن گروہ جس میں ہر زمانہ میں ہزار ہا عالم فاضل موجود رہے ہیں اور جن کے ساتھ ساتھ صدہا نبی ہوتے چلے آئے ہیں ایک ایسی تعلیم سے ان کو بے خبری ہو جو چودہ سو برس سے برابران کو ملتی رہی اور لاکھوں افراد ان کے ہر صدی میں اس تعلیم میں نشو نما پاتے رہے۔ اور ہر صدی کے پیغمبر کی معرفت وہ تعلیم نازا ہیم نازل ہوتی رہی اور ہر ایک فرقہ ان کا اس تعلیم کا پابند رہا اور ان کے رگ وریشہ میں وہ تعلیم گھس گئی۔ اور ایسا ہی صدی بعد صدی ان کے نبی نہایت اہتمام سے اس تعلیم کی تاکید کرتے چلے آئے۔ یہاں تک کہ اس صدی تک نوبت پہنچ گئی جس میں ایک شخص نے خدائی کا دعوی کیا اور وہ لوگ سب اس دعوے سے سخت انکاری ہوئے اور بالاتفاق کہا کہ یہ دعولی اس مسلسل تعلیم کے بر خلاف ہے کہ جو توریت اور دوسری کتابوں سے خدا کے نبیوں کی معرفت چودہ سو برس سے آج تک ہمیں ملتی رہی ہے۔ سو عیسائی عقیدہ کے بطلان کے لئے اس سے زیادہ اور کیا دلیل ہو گی کہ وہ جس تعلیم کو سچی اور منجانب اللہ سمجھتے ہیں وہی تعلیم ان کے جدید ر ان کے جدید عقیدہ کی مکذب ہے۔ رب ہے۔ اور ان کے اس عقیدہ کی ایسی کھلی کھلی مخالف ہے کہ کبھی کسی یہودی کو یہ شک بھی نہیں گذرا کہ اس تعلیم میں تثلیث بھی داخل ہے۔ ہاں عیسائی لوگ پیش گوئیوں کی طرف ہاتھ پیر مارتے ہیں۔ مگر یہ خیال نہایت ہنسی کی بات اور قابل شرم ہے کیونکہ جن نبیوں کی یہ موحدانہ تعلیم تھی جو مسلسل طور پر یہودیوں کے ہاتھوں میں چلی آئی۔ کیوں کر ممکن تھا کہ ایسے انبیاء علیہم السلام اپنی تعلیم کے مخالف پیش گوئیاں بیان کرتے اور اپنی تعلیم اور پیش ا کے گوئیوں میں ایسا تناقض ڈال دیتے کہ تعلیم کا تو کچھ اور منشا اور پیش گوئیوں کا کچھ اور ہی منشا کا ہو جاتا۔ اور اس جگہ عقلمند کے لئے یہ ایک نقطہ نہایت ہدایت بخش ہے کہ پیش گوئیوں میں استعارات اور مجازات بھی ہوتے ہیں مگر تعلیم کے لئے تفریح اور تفصیل ضروری ہوتی ہے اس لئے جہاں کہیں تعلیم اور پیش گوئی کا تناقض معلوم ہو تو یہ لازم ہوتا ہے کہ تعلیم کو کو مقدم رکھا جائے۔ اور پیش گوئی کو اگر اس کے مخالف ہو ظاہر الفاظ سے پھیر کر تعلیم کے مطابق اور موافق کر دیا جائے تا رفع تناقض ہو۔ بہر حال تعلیمی مضمون کا لحاظ مقدم چاہئے۔ کیونکہ تعلیم علاوہ تصریح اور تفصیل کے اکثر معرض افادہ استفادہ میں آتی رہتی ۸۴