فقہ المسیح — Page 386
فقه المسيح 386 بدعات اور بد رسومات میں مبتلا نہیں جو موجب فتنہ ہو اور یاد رکھنا چاہیے کہ اسلام میں قوموں کا کچھ بھی لحاظ نہیں ۔ صرف تقوی اور نیک بختی کا لحاظ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَكُمُ یعنی تم میں سے خدا تعالیٰ کے نزدیک زیادہ تر بزرگ وہی ہے جو زیادہ پر ہیز گار ہے۔ (9) ہماری قوم میں یہ بھی ایک بد رسم ہے کہ شادیوں میں صد ہا روپیہ کا فضول خرچ ہوتا ہے۔ سو یاد رکھنا چاہیے کہ شیخی اور بڑائی کے طور پر برادری میں بھاجی تقسیم کرنا اور اس کا دینا اور کھانا دونوں باتیں عند الشرع حرام ہیں اور آتشبازی چلوانا اور کنجروں، ڈوموں کو دینا یہ سب حرام مطلق ہے۔ ناحق روپیہ ضائع جاتا ہے۔ گناہ سر پر چڑھتا ہے۔ صرف اتنا حکم ہے کہ نکاح کرنے والا بعد نکاح کے ولیمہ کرے یعنی چند دوستوں کو کھانا پکا کر کھلا دیوے۔ (10) ہمارے گھروں میں شریعت کی پابندی کی بہت سستی ہے۔ بعض عورتیں زکوٰۃ دینے کے لائق اور بہت سا زیور ان کے پاس ہے۔ وہ زکوۃ نہیں دیتیں۔ بعض عورتیں نماز روزہ ساز کے ادا کرنے میں بہت کو تا ہی رکھتی ہیں ۔ بعض عورتیں شرک کی رسمیں بجالاتی ہیں جیسے چیچک کی پوجا۔ بعض فرضی دیویوں کی پوجا کرتی ہیں۔ بعض ایسی نیازیں دیتی ہیں جن میں یہ شرط لگا دیتی ہیں کہ عورتیں کھاویں کوئی مرد نہ کھاوے یا کوئی حقہ نوش نہ کھاوے بعض جمعرات کی چوکی بھرتی ہیں مگر یاد رکھنا چاہیے کہ یہ سب شیطانی طریق ہیں ۔ ہم صرف خالص اللہ کے لیے ان لوگوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ آؤ خدا تعالیٰ سے ڈرو۔ ورنہ مرنے کے بعد ذلت اور رسوائی سے سخت عذاب میں پڑو گے اور اس غضب الہی میں مبتلا ہو جاؤ گے جس کا انتہاء نہیں۔ محرم میں رسومات سے بچو الحکم 10 جولائی 1902ء صفحہ 6 تا 8) ایک شخص کا تحریری سوال پیش ہوا کہ محرم کے دنوں میں امامین کی روح کو ثواب دینے کے واسطے روٹیاں وغیرہ دینا جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا: عام طور پر یہ بات ہے کہ طعام کا ثواب میت کو پہنچتا ہے لیکن اس کے ساتھ شرک کی