فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xli of 611

فقہ المسیح — Page xli

حرف آغاز حکم عدل کا فقہی اسلوب دے کر تنگی اور تکلیف میں نہیں ڈالا بلکہ بعض جگہ رخصتیں اور رعایتیں بھی دی ہیں لیکن لوگ عموما تنگی والے راستے کو اختیار کرتے ہیں ۔ آپ نے اپنی جماعت کو سمجھایا کہ خدا کی طرف سے دی گئی رخصتیں بھی اس کے احکام کی طرح اہم ہیں اور ان پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ ایک ایسے ہی موقع پر جبکہ ایک مہمان کی مہمان نوازی کے بارہ میں آپ نے ہدایت فرمائی اور اس سے آپ نے پوچھا کہ آپ مسافر ہیں آپ نے روزہ تو نہیں رکھا ہوگا ۔ اس نے کہا کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ اس پر آپ نے فرمایا اصل بات یہ ہے کہ قرآن شریف کی رخصتوں پر عمل کرنا بھی تقویٰ ہے ۔ خدا تعالیٰ نے مسافر اور بیمار کو دوسرے وقت رکھنے کی اجازت اور رخصت دی ہے اس لئے اس حکم پر بھی تو عمل رکھنا چاہئے ۔ میں نے پڑھا ہے کہ اکثر ا کا بر اس ط طرف گئے ہیں کہ اگر کوئی حالتِ سفر یا بیماری میں روزہ رکھتا ہے تو یہ معصیت ہے کیونکہ غرض تو اللہ تعالیٰ کی رضا ہے نہ اپنی مرضی اور اللہ تعالیٰ کی رضا فرمانبرداری میں ہے جو حکم وہ دے اس کی اطاعت کی جاوے اور اپنی طرف سے اس پر حاشیہ نہ چڑھایا جاوے۔“ )14( الحکم 31 جنوری 1907 ، صفحہ خدا تعالیٰ کی رخصتوں پر عمل کرنے کے ضمن میں آپ نے شریعت کے اس نقطہ کی طرف بھی توجہ دلائی کہ اللہ تعالیٰ نے دین میں کوئی حرج اور تنگی نہیں رکھی ۔ فرمایا شریعت کی بناء نرمی پر ہے تختی پر نہیں ہے ۔“ )20( الحکم 10 اگست 1903 ء صفحہ( 10 - شعائر الله کا احترام اور دینی غیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فتاوی میں ہمیں یہ خصوصی انداز نظر آتا ہے کہ آپ مسائل کی صرف ظاہری صورتوں پر ہی نظر نہیں رکھتے تھے بلکہ تحدیث نعمت اور اظہارِ شکرگزاری کا 19