فقہ المسیح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 268 of 611

فقہ المسیح — Page 268

فقه المسيح نکاح کے موقع پر زائد شرط رکھنا 268 نکاح حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ مسماۃ تابی حضرت مسیح موعود کی ایک خادمہ تھی ۔ اس کی ایک نواسی کا نکاح ایک شخص مسمی فقیر محمد سکنہ قادیان سے تجویز ہوا۔ حضرت صاحب نے فقیر محمد کو ایک اشٹام کا کاغذ لانے کی ہدایت فرمائی۔ جب وہ کاغذ لے آیا تو حضرت صاحب نے گول کمرہ میں میری موجودگی میں فقیر محمد کی طرف سے تحریر ہونے کے لئے مضمون بنایا۔ کہ میں اس عورت سے نکاح کرتا ہوں اور ۔ 500 روپیہ مہر ہوگا اور اس کے اخراجات کا میں ذمہ دار ہوں گا اور اس کی رضا مندی کے بغیر ( یا یہ فقرہ تھا کہ اس کی حیات تک ) دوسرا نکاح نہ کروں گا۔ یہ کا غذ آپ نے مجھے اشٹام پر نقل کرنے کے لئے دیا۔ چنانچہ میں نے وہیں نقل کر دیا۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ نکاح میں زائد شرائط مقرر کرنا جائز ہے اور حضرت صاحب نے لکھا ہے ۔۔۔ نکاح ثانی کے متعلق عورت کی طرف سے یہ شرط بھی ہو سکتی ہے کہ میرا خاوند میرے ہوتے ہوئے نکاح ثانی نہیں کرے گا کیونکہ تعدد ازدواج اسلام میں جائز ہے نہ یہ کہ اس کا حکم ہے۔ (سیرت المہدی جلد 1 صفحہ (590) حضرت مسیح موعود کا ایک لڑکی کی طرف سے ولی بنا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ میاں رحمت اللہ صاحب ولد میاں عبداللہ صاحب سنوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میرے نکاح کا خطبہ المسير حضرت خلیفة المسیح الاول نے پڑھا تھا لیکن حضرت مسیح موعود نے خود میری اہلیہ کی طرف سے المسيح کو اپنی زبان مبارک سے ایجاب و قبول کیا تھا۔ کیونکہ حضور ولی تھے۔ میں اس کو اپنی نہایت ہی اپنی زبان مبارک سے ایجاب و قبول کیا تھا کہ خوش قسمتی سمجھتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ نکاح تو حضور نے کئی ایک کے - پڑھائے ہوں گے لیکن اس طرح کا معاملہ شاید ہی کسی اور سے ہوا ہو۔ سب کچھ والد صاحب